Pakistan
راولپنڈی میں حنا جاوید کا بہیمانہ قتل: شوہر اور ملازم گرفتار
راولپنڈی کے ایک اپارٹمنٹ سے حنا جاوید نامی خاتون کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی ہے جس کے بعد پولیس نے شوہر اور ملازم کو گرفتار کر لیا ہے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
راولپنڈی میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں ایک نجی اپارٹمنٹ سے حنا جاوید نامی خاتون کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد علاقے میں شدید صدمہ پایا جاتا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقتولہ کے اہل خانہ نے شوہر پر گھریلو تشدد اور قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون کو انتہائی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد اسے مردہ حالت میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ملک میں خواتین پر بڑھتے ہوئے گھریلو تشدد کے واقعات پر بحث چھیڑ دی ہے۔
اس سنگین معاملے میں پیش رفت کرتے ہوئے پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور ان کے گھر میں کام کرنے والے ملازم کو حراست میں لے لیا ہے۔ دونوں ملزمان کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ملزمان سے قتل کی اصل وجوہات اور واقعے میں ملوث دیگر افراد کے بارے میں تفصیلی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے اور فرانزک رپورٹس کی روشنی میں اصل حقائق سامنے لائے جائیں گے۔
دوسری جانب پاکستان کی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس قتل کیس کی شفاف اور مکمل تحقیقات کو یقینی بنائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حنا جاوید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ معاشرے میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عدالتیں اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر سنیں تاکہ مقتولہ کے ورثاء کو بروقت انصاف مل سکے۔ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور پولیس جلد حتمی چالان عدالت میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔