World
غزہ کشیدگی: اسرائیل کی جانب سے آتش گیر پتنگوں کے خلاف کریک ڈاؤن
اسرائیلی قیادت نے غزہ سے بھیجی جانے والی آتش گیر پتنگوں اور غباروں کو ڈرون کے مترادف قرار دیتے ہوئے فوج کو ان کے خلاف بھرپور طاقت استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔ حالیہ فضائی کارروائیوں کے دوران تین فلسطینیوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
غزہ کی سرحد سے اڑائی جانے والی آتش گیر پتنگوں اور غباروں کے معاملے پر اسرائیل نے اپنے ردعمل کو مزید سخت کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے فوج کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ سرحد پار سے آنے والے اس نئے اور مہلک خطرے کے خلاف ہر ممکن طاقت کا استعمال کرے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آتش گیر پتنگیں کوئی معمولی احتجاج نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں جنہیں ڈرون کی طرح خطرناک تصور کیا جانا چاہیے۔ اس حکومتی فیصلے کے بعد اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے غزہ میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر سرحد پار سے غبارے اور آتش گیر مواد چھوڑنے کا سلسلہ بند نہ ہوا تو اسرائیل ٹارگٹ کلنگ اور آبادیوں کے انخلا جیسے سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیل کی حالیہ فضائی بمباری کے نتیجے میں تین فلسطینیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کشیدگی نے سرحد پر صورتحال کو انتہائی دھماکہ خیز بنا دیا ہے، کیونکہ اسرائیل اب ان واقعات کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک 'ریڈ لائن' قرار دے رہا ہے۔
دوسری جانب، غزہ کی سرحد پر ایک ایسی پتنگ بھی ملی ہے جس پر عربی زبان میں کچھ تحریریں درج تھیں، جسے اسرائیلی حکام نے ایک بڑا اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو ایک نئی اور خطرناک سمت لے جا سکتی ہے۔ اسرائیل کا یہ اصرار کہ پتنگوں کو ڈرون کی طرح ڈیل کیا جائے گا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائیوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔