Health
موسمیاتی تبدیلیوں پر تشویش اور سوشل میڈیا کا اثر
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے والے نوجوان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے شدید تشویش اور مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود مواد نوجوان نسل کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
موجودہ دور میں جب دنیا بھر کے طلباء تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی اپنے تعلیمی اداروں کا رخ کر رہے ہیں، ایک تشویشناک حقیقت سامنے آئی ہے کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد مستقبل کے حوالے سے شدید ناامیدی کا شکار ہے۔ لینسیٹ پلینیٹری ہیلتھ (Lancet Planetary Health) کی ایک تحقیق، جس میں دس مختلف ممالک کے 10,000 نوجوان شامل کیے گئے، سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً 75 فیصد نوجوانوں کا ماننا ہے کہ مستقبل تاریک ہے اور کرہ ارض کے حالات میں بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔ اس نفسیاتی کیفیت کو ماہرین 'کلائمیٹ ڈوم' یا موسمیاتی مایوسی کا نام دے رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ کیفیت ان نوجوانوں میں زیادہ نمایاں ہے جو سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق مسلسل آنے والی تشویشناک خبریں، ویڈیوز اور منفی تبصرے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر موجود معلومات کا سیلاب ان کے ذہنوں میں یہ تاثر پختہ کر رہا ہے کہ ماحولیاتی تباہی کو روکنا اب ناممکن ہو چکا ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود ڈیٹا نوجوانوں کی سوچ کو منفی سمت میں لے جا رہا ہے، جس سے وہ نہ صرف بے بسی محسوس کرتے ہیں بلکہ اپنی تعلیمی اور سماجی زندگی میں بھی عدم دلچسپی کا شکار ہونے لگے ہیں۔ یہ صورتحال صرف ایک ذہنی دباؤ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج بن چکی ہے کیونکہ یہ نوجوان آنے والے وقت کے معمار ہیں اور ان کی مایوسی پوری نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومتی سطح پر اور تعلیمی اداروں کے اندر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو درست معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہوں۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی یہ ذمہ داری لینی چاہیے کہ وہ پلیٹ فارم پر موجود مواد کی جانچ پڑتال کریں تاکہ ایسی مایوس کن خبروں کے ساتھ امید اور مثبت اقدامات سے متعلق معلومات بھی نوجوانوں تک پہنچ سکیں۔