LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا عندیہ

News Image
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے زور دیا ہے کہ موجودہ تعطل کا شکار صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے ساتھ سفارتی معاہدہ واحد حل ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ملک کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جن کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور 'نہ جنگ نہ امن' کی کیفیت سے نکلنے کے لیے ایک مستحکم معاہدے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی چیلنجز کے پیش نظر سفارتکاری اور بات چیت کے دروازے کھولنا ملکی مفاد میں ہے۔ صدر پزشکیان کے مطابق، تہران کو درپیش اقتصادی اور سیاسی مسائل کا حل کسی نہ کسی سطح پر عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک متوازن معاہدے میں مضمر ہے جو ایران کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ ایرانی صدر نے تسلیم کیا کہ ملک کو اس وقت 'بہت سے مسائل' کا سامنا ہے جو عوام کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے داخلی اتحاد کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی میں بھی حقیقت پسندی کی ضرورت ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر پزشکیان کا یہ بیان ایران کے اس روایتی موقف میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جو برسوں سے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے گریزاں تھا۔ ایران کے اعلیٰ سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کا ایک حلقہ بھی اب یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال مزید طویل نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے ملک کی معیشت مزید کمزور ہو رہی ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایرانی قیادت کا یہ نرم لہجہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ تہران کی جانب سے امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار وقتاً فوقتاً کیا جاتا رہا ہے، تاہم صدر پزشکیان کی جانب سے 'بہترین راستہ' کا تذکرہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران اب کسی ایسے میکانزم کی تلاش میں ہے جو پابندیوں کے خاتمے اور اقتصادی بحالی کی راہ ہموار کر سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا امریکہ اس پیشکش پر کیا ردعمل دیتا ہے اور کیا فریقین کسی ایسے مشترکہ لائحہ عمل پر پہنچ سکتے ہیں جس سے خطے میں دیرپا استحکام پیدا ہو۔ تہران کے سیاسی حلقوں میں اس بیان پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں سفارتی سطح پر کچھ پیشرفت ممکن ہو سکتی ہے۔ بہرحال، یہ ایک پیچیدہ عمل ہوگا جس کے لیے دونوں جانب سے انتہائی احتیاط اور باہمی اعتماد کی بحالی کے سخت اقدامات درکار ہوں گے۔