LIVE
Loading Breaking News...

ہیومنائیڈ روبوٹس کی تیاری: چین کے لیے منافع کا حصول مشکل

News Image
چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی تیاری پر بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے لیکن ماہرین کے مطابق ان سے مالی منافع حاصل کرنا ایک مشکل ہدف ہے۔ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں روبوٹس کی کارکردگی اور ان کی تجارتی افادیت کے درمیان بڑا فرق پایا جاتا ہے۔
چین کی جانب سے ہیومنائیڈ روبوٹس کی صنعت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور تحقیق کے باوجود، ماہرین کا ماننا ہے کہ ان جدید مشینوں سے مالی منافع کمانا ایک مشکل اور طویل المدتی ہدف ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے عالمی سطح پر خود کو روبوٹکس کا مرکز بنانے کے لیے کئی سائنسی نمائشوں اور مقابلوں کا انعقاد کیا ہے، جس میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا گیا۔ تاہم، یہ روبوٹس جو دیکھنے میں انسانی ساخت کے حامل ہیں، ابھی تک حقیقی معنوں میں صنعتی یا گھریلو استعمال کے لیے اس طرح تیار نہیں ہیں کہ وہ بڑے پیمانے پر منافع فراہم کر سکیں۔ رپورٹس کے مطابق، ہیومنائیڈ روبوٹس کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ ان کی پیچیدہ حرکات اور عملی افادیت ہے۔ اگرچہ یہ روبوٹس تیز دوڑنے یا مخصوص کام کرنے کے قابل ہو چکے ہیں، لیکن روزمرہ کے چھوٹے اور نازک کام، جیسے کہ بجلی کے تار کو پلگ ان کرنا یا اشیاء کو درست طریقے سے ترتیب دینا، اب بھی ان کے لیے ایک چیلنج ہے۔ عالمی سطح پر منعقد ہونے والے روبوٹکس مقابلوں میں دیکھا گیا ہے کہ پہیوں والے روبوٹس اکثر انسانی شکل والے روبوٹس کے مقابلے میں زیادہ تیز اور مؤثر ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی سادہ ساخت کی بدولت کاموں کو تیزی سے نمٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چین کا روبوٹکس پروگرام سٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے، لیکن تجارتی کامیابی کا دارومدار صرف جدید ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ اس کی لاگت پر بھی ہے۔ ہیومنائیڈ روبوٹس کی تیاری کی لاگت اس وقت اتنی زیادہ ہے کہ اسے عام کاروباری مراکز یا گھروں میں متعارف کرانا مالی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ جب تک ان روبوٹس کی پیداواری لاگت کم نہیں ہوتی اور ان کی کارکردگی میں مزید بہتری نہیں لائی جاتی، تب تک چین کے لیے اس شعبے سے خاطر خواہ مالی منافع کمانا مشکل رہے گا۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا چین اپنی جدید تحقیق کے ذریعے ان رکاوٹوں کو عبور کر پاتا ہے یا نہیں۔ اگرچہ چین کی حکومت اور نجی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں، لیکن مارکیٹ کا رجحان ابھی بھی سادہ اور زیادہ کارآمد مشینوں کی طرف ہے۔ ہیومنائیڈ روبوٹس کا مستقبل یقینی طور پر تابناک ہے، مگر انہیں منافع بخش کاروبار میں بدلنے کے لیے ابھی مزید کئی برسوں کی مسلسل تحقیق اور تکنیکی بہتری درکار ہے۔