Politics
عمران خان کے حامی غیر ملکی اراکین پارلیمنٹ پر بوٹ اٹیک اور جعلی مہم کا انکشاف
غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صورتحال کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ ساتھ ہی عمران خان کی حمایت کرنے والے غیر ملکی ارکانِ پارلیمنٹ کو مربوط بوٹ حملوں اور پروپیگنڈا مہم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی حمایت میں آواز اٹھانے والے چند غیر ملکی اراکینِ پارلیمنٹ ایک منظم اور مربوط بوٹ حملے کی زد میں آ چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی اس مخصوص مہم کا مقصد عمران خان کی جیل کی صورتحال سے متعلق دعوؤں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور بین الاقوامی سطح پر ایک خاص تاثر قائم کرنا ہے۔ مختلف غیر ملکی میڈیا رپورٹس نے ان دعوؤں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم کی سہولیات کے بارے میں جو بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے، اس کی حقیقت زمینی حقائق سے مختلف ہے۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس پوری مہم کے پیچھے ایک مربوط حکمت عملی کارفرما ہے جس کے تحت جعلی اکاؤنٹس اور بوٹس کے ذریعے غیر ملکی قانون سازوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ عناصر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر مخصوص ہیش ٹیگز اور بیانات کو وائرل کر کے عالمی سطح پر غلط فہمیاں پیدا کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کی ڈیجیٹل مہمات کا مقصد اصل حقائق سے توجہ ہٹانا اور بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنا ہے تاکہ ملکی سیاست پر غیر ضروری دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
دوسری جانب، ملکی ذرائع ابلاغ اور سرکاری حلقوں کی جانب سے بھی پی ٹی آئی کے اس مبینہ بیانیے کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان کو تمام قانونی اور آئینی حقوق حاصل ہیں اور جیل کے حالات سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں سراسر بے بنیاد اور سیاسی مفادات پر مبنی ہیں۔ ماہرینِ سیاسیات کا خیال ہے کہ اس تنازعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کے منفی استعمال اور جعلی پروپیگنڈا مہمات کے خطرات کو اجاگر کر دیا ہے، جن سے سیاسی شفافیت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔