LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارے کی تقسیم کا اسرائیلی منصوبہ اور فلسطینی ریاست کا مستقبل

News Image
اسرائیل کی جانب سے متنازعہ 'ای 1' منصوبہ مغربی کنارے کے مستقبل اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنگین خطرہ بن گیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس منصوبے کی شدید مخالفت کر رہی ہے کیونکہ اس سے فلسطینی علاقوں کا آپس میں رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو جائے گا۔
اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری 'ای 1' (E1) منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرنے کی اطلاعات نے خطے میں ایک نئی بحث اور تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف فلسطینی علاقوں کے درمیان جغرافیائی رابطے کو مکمل طور پر ختم کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے خواب کو بھی ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کے مترادف ہے۔ ای 1 منصوبہ دراصل مقبوضہ بیت المقدس کے نواح میں بڑے پیمانے پر یہودی بستیوں کی تعمیر کا نام ہے، جس کا مقصد علاقے کی جغرافیائی ساخت کو یکسر تبدیل کرنا ہے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو مغربی کنارہ دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا، جس سے فلسطینیوں کا ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک سفر کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے دو ریاستی حل کو سبوتاژ کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ برسوں سے جاری اس تنازعے میں یہ منصوبہ ایک ایسا اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے جہاں فلسطینیوں کے لیے اپنے ہی وطن میں نقل و حرکت کے تمام راستے مسدود ہو جائیں گے۔ بین الاقوامی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اسرائیل نے اس منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھا تو اس سے نہ صرف فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہوگی بلکہ خطے میں پائیدار امن کی کوششیں بھی ناکام ہو جائیں گی۔ فلسطینی قیادت نے اس منصوبے کو 'نسلی امتیاز' اور 'زمین پر قبضے' کی آخری کڑی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، کیونکہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کے فلسطینی شہروں کے درمیان رابطہ توڑ دے گا، جس کے نتیجے میں فلسطینی ریاست کا تصور صرف کاغذ تک محدود رہ جائے گا۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے عملی نفاذ پر عالمی دباؤ کا جائزہ لینا اہم ہوگا۔ کیا اسرائیل اپنی توسیعی پالیسیوں کو جاری رکھے گا یا عالمی دباؤ کے پیش نظر اسے روک دیا جائے گا، یہ سوال آج مشرق وسطیٰ کی سیاست میں سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ فلسطینی عوام کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری اس معاملے پر عملی اقدامات اٹھائے تاکہ ان کی زمینوں کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم ہونے سے بچایا جا سکے۔