World
غزہ میں طبی بحران: ہسپتالوں میں آکسیجن کی شدید قلت
غزہ میں جاری شدید بحران کے باعث ہسپتالوں میں آکسیجن کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں جس سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں اور تشویشناک حالت میں مبتلا مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔
غزہ کی پٹی میں جاری شدید کشیدگی اور ناکہ بندی کے اثرات اب طبی شعبے پر انتہائی خطرناک حد تک مرتب ہو رہے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق غزہ کے بیشتر ہسپتالوں میں آکسیجن کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں، جس کی وجہ سے صحت کا نظام مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ آکسیجن کی اس کمی نے خاص طور پر آئی سی یو میں زیر علاج مریضوں اور وینٹی لیٹرز پر موجود افراد کے لیے موت کے خطرات کو دوگنا کر دیا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر طبی سپلائی اور آکسیجن کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو انسانی المیہ مزید سنگین ہو جائے گا۔
اس بحرانی صورتحال میں سب سے زیادہ خطرہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں اور آپریشن تھیٹر میں موجود مریضوں کو لاحق ہے۔ ان بچوں کو زندہ رکھنے کے لیے آکسیجن کی مسلسل فراہمی ناگزیر ہے، جبکہ آکسیجن نہ ہونے کے باعث ان کے بچنے کے امکانات انتہائی کم ہو گئے ہیں۔ ہسپتالوں میں بجلی کی مسلسل بندش اور ایندھن کی شدید کمی نے آکسیجن جنریٹرز کو چلانے میں بڑی رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں۔ طبی عملہ انتہائی ناموافق حالات میں کام کرنے پر مجبور ہے اور وہ وسائل کی کمی کے باعث بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں فوری طور پر طبی امداد کی فراہمی کے راستے نہیں کھولے گئے تو یہ ہسپتال چند گھنٹوں میں مکمل طور پر کام کرنا چھوڑ دیں گے۔ تشویشناک حالت میں مبتلا مریضوں کو آکسیجن کی سہولت نہ ملنا ایک بڑے انسانی المیے کو جنم دے رہا ہے۔ عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس انسانی بحران کا نوٹس لے اور غزہ کے ہسپتالوں کو بچانے کے لیے فوری طور پر طبی سامان اور آکسیجن کے کنٹینرز پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
مستقبل قریب میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ نہ صرف آکسیجن بلکہ ادویات اور دیگر ضروری طبی آلات بھی ختم ہو چکے ہیں۔ ہسپتال اب صرف ایک محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے بلکہ وہاں موت کا رقص جاری ہے، جہاں طبی ماہرین صرف خاموشی سے مریضوں کی حالت بگڑتے ہوئے دیکھنے پر مجبور ہیں۔ غزہ کے عوام اس وقت ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جہاں دشمن صرف گولہ بارود نہیں بلکہ زندگی بچانے والے بنیادی وسائل کی کمی بھی ہے۔