LIVE
Loading Breaking News...

کیلیفورنیا میں تیرتے ہوئے نیوکلیئر ری ایکٹر کا منصوبہ

News Image
کیلیفورنیا میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک جدید تیرتے ہوئے نیوکلیئر ری ایکٹر کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ 10 میگاواٹ کا سمال ماڈیولر ری ایکٹر تقریباً 15 ہزار گھروں کو بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں توانائی کے بحران اور صاف ستھری بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور جدید تجویز پیش کی گئی ہے۔ بلیوکور (Bluecore) نامی کمپنی نے ایک تیرتا ہوا نیوکلیئر ری ایکٹر متعارف کرانے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جو 10 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ ایک تیرتی ہوئی بارج (بڑی کشتی) پر نصب چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر (SMR) پر مشتمل ہوگا، جو ساحلی علاقوں کے قریب کھڑا کر کے بجلی فراہم کر سکے گا۔ ماہرین کے مطابق، یہ ری ایکٹر تقریباً 15 ہزار گھروں کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ کیلیفورنیا میں نیوکلیئر پاور کے حوالے سے قوانین کافی سخت ہیں۔ ریاست میں 1976 سے نئے ایٹمی ری ایکٹروں کی تعمیر پر پابندی عائد ہے، جس کی وجہ سے یہ تجویز ایک بڑی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ روایتی ایٹمی پلانٹس سے بالکل مختلف ہے کیونکہ اسے زمین پر تعمیر نہیں کیا جائے گا بلکہ ایک موبائل بارج پر رکھا جائے گا، جس سے حفاظتی خطرات میں کمی آئے گی۔ یہ ٹیکنالوجی نقل و حمل کے قابل ہے اور اسے ضرورت کے مطابق ساحلی علاقوں میں کہیں بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار مقامی حکومت کی جانب سے اجازت اور سخت حفاظتی معیارات پر پورا اترنے پر ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ کیلیفورنیا کی توانائی پالیسی میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا، کیونکہ اس سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور ریاست کو گرڈ پر بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ بلیوکور کے انجینئرز اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سمال ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs) مستقبل کی توانائی کی ضروریات کا بہترین حل ہیں، خاص طور پر ان علاقوں کے لیے جہاں زمین پر تعمیرات کرنا مشکل یا ممنوع ہے۔ اگرچہ یہ تجویز ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن توانائی کے ماہرین اسے ایک دلیرانہ قدم قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جوہری فضلے اور سمندری حیات پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس منصوبے کے تکنیکی اور قانونی پہلوؤں پر مزید بحث متوقع ہے، جس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہو سکے گا کہ آیا کیلیفورنیا کے ساحل پر یہ تیرتے ہوئے ری ایکٹر حقیقت کا روپ دھار سکیں گے یا نہیں۔