Politics
امریکی قرض کا بحران: ہر شہری پر 4 ہزار ڈالر سود کا بوجھ، تھامس میسی کا بیان
امریکی کانگریس مین تھامس میسی نے خبردار کیا ہے کہ قومی قرضوں کا حجم 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے سے ہر شہری پر بھاری مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سیاسی مخالفت کی بنیادی وجہ حکومتی پالیسیوں اور قرض کے بڑھتے ہوئے سود پر ان کا سخت موقف ہے۔
امریکی کانگریس کے رکن تھامس میسی نے ملک کی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک سنگین انکشاف کیا ہے کہ امریکی عوام اس وقت قومی قرضوں پر ادا کیے جانے والے سود کی وجہ سے ہر سال فی کس چار ہزار ڈالر کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے مجموعی قومی قرضوں کا حجم 40 ٹریلین ڈالر کی تاریخی سطح کو عبور کر چکا ہے، جس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی جیب پر پڑ رہا ہے۔ تھامس میسی کے مطابق یہ اعداد و شمار نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک سنگین معاشی بحران کا پیش خیمہ بھی ہیں۔
تھامس میسی نے اپنے حالیہ بیانات میں ان پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جن کی وجہ سے قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی سیاسی جدوجہد اور پارٹی کے اندر مخالفت کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ حکومتی اخراجات اور غیر ضروری قرضوں کے حصول کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ واشنگٹن میں پالیسی ساز ادارے اور سیاسی قیادت طویل مدتی معاشی استحکام کے بجائے وقتی فائدے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کو چکانی پڑ رہی ہے۔
مزید برآں، کانگریس مین نے نشاندہی کی کہ سود کی ادائیگیوں کا یہ بوجھ امریکی بجٹ کے بڑے حصے کو کھا رہا ہے، جس سے تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے فنڈز کی دستیابی محدود ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر ان پالیسیوں میں تبدیلی نہ لائی گئی تو امریکہ کو معاشی زوال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، قرضوں پر سود کی بلند شرح نہ صرف معیشت کی رفتار کو سست کر رہی ہے بلکہ مہنگائی میں اضافے کا باعث بھی بن رہی ہے، جس سے متوسط طبقے کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
آخر میں، تھامس میسی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر اپنے اخراجات پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور کفایت شعاری کے سخت اقدامات اپنانے ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ چاہے سیاسی طور پر کتنے ہی دباؤ میں کیوں نہ ہوں، وہ حقائق پر مبنی اس بحث کو جاری رکھیں گے تاکہ امریکی عوام کو اس معاشی دلدل سے نکالنے کے لیے ایک شفاف اور ذمہ دارانہ پالیسی وضع کی جا سکے۔ ان کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا بھر میں معاشی ماہرین امریکی ڈالر کی قدر اور ملکی معیشت کے مستقبل پر خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔