World
نیوزی لینڈ میں سائنسی فنڈنگ میں کٹوتیاں اور تجارتی مقاصد کا تنازع
نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کی جانب سے سائنسی شعبے کو تجارتی بنیادوں پر استوار کرنے کے بیانات پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی حالیہ فنڈنگ کٹوتیاں ملک کے بنیادی سائنسی ڈھانچے اور تحقیقاتی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کے اس عزم نے کہ وہ ملک کے سائنسی اور تحقیقی شعبے کو 'برٹلی کمرشلائز' (ظالمانہ تجارتی بنیادوں پر استوار) کرنا چاہتے ہیں، سائنسی حلقوں میں ایک نئی بحث اور شدید تشویش کو جنم دے دیا ہے۔ حکومت کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو ملک کے لیے زیادہ سے زیادہ معاشی منافع کمانا چاہیے، اعلیٰ ٹیک برآمدات پیدا کرنی چاہئیں اور ملکی معیشت کی ترقی میں براہ راست اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ وزیراعظم کا ماننا ہے کہ روایتی سائنسی تحقیق کو اب مکمل طور پر کاروباری سوچ کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
تاہم، اس حکومتی وژن کے ساتھ ہی سائنسی شعبے میں کی جانے والی حالیہ مالیاتی کٹوتیاں اور پالیسی تبدیلیاں ماہرین کے نزدیک اس کے بالکل برعکس اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ سائنسی برادری اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو حکومت سائنس سے بڑی معاشی توقعات وابستہ کر رہی ہے، اور دوسری طرف تحقیقی اداروں کے بجٹ میں نمایاں کمی کی جا رہی ہے۔ اس تضاد نے ملک کی سائنسی بنیادوں کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ مناسب فنڈنگ اور وسائل کے بغیر کسی بھی قسم کی اعلیٰ درجے کی سائنسی یا تکنیکی ترقی کا خواب دیکھنا ناممکن ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سائنس صرف فوری منافع کمانے کا نام نہیں ہے بلکہ بنیادی تحقیق اور طویل المدتی مطالعے کسی بھی قوم کی ترقی کا اصل ستون ہوتے ہیں۔ اگر حکومت کی پوری توجہ صرف فوری تجارتی فوائد حاصل کرنے پر مرکوز رہی اور بنیادی سائنس کو نظر انداز کیا گیا، تو نیوزی لینڈ مستقبل میں نہ صرف بین الاقوامی مسابقت میں پچھڑ جائے گا بلکہ اس کے اپنے محققین بھی بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس صورتحال نے ملک کے علمی اور سائنسی مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔