LIVE
Loading Breaking News...

فلاک کا پولیس کے لیے خفیہ اے آئی ٹول: پرائیویسی کے نئے خدشات

News Image
فلاک نامی کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے پولیس کے استعمال کے لیے ایک ایسا مصنوعی ذہانت کا حامل ٹول خفیہ طور پر تیار کیا ہے جو افراد کی شناخت اور سراغ رسانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے قبل کمپنی عوامی سطح پر یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی کسی بھی شخص کی شناخت کرنے یا اسے ٹریک کرنے کے قابل نہیں ہے۔
مشہور ٹیکنالوجی کمپنی 'فلاک' (Flock) کو شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی نے پولیس کے استعمال کے لیے ایک انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹول خاموشی سے تیار کیا ہے۔ یہ ٹول کسی بھی فرد کی شناخت کرنے اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ کمپنی نے برسوں تک عوامی سطح پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کی تیار کردہ ٹیکنالوجی افراد کی شناخت یا ان کا سراغ لگانے کے لیے استعمال نہیں ہوتی، تاہم نئی رپورٹس نے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ ٹیکنالوجی ماہرین اور پرائیویسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فلاک کا یہ نیا اقدام شہریوں کی نجی زندگی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اب تک کمپنی اپنی مصنوعات کو 'عوامی تحفظ' کے نام پر فروخت کرتی رہی تھی، جس میں صرف گاڑیوں کے نمبر پلیٹس کا ڈیٹا محفوظ کیا جاتا تھا، لیکن اب ایک ایسا نظام سامنے آیا ہے جو چہرے کی شناخت اور رویوں کے تجزیے کے ذریعے کسی بھی شخص کو ٹریک کر سکتا ہے۔ یہ پیشرفت ان قانونی حدود کو بھی چیلنج کر رہی ہے جو عام شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے وضع کی گئی ہیں۔ وائرڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پولیس فورسز اب اس نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مشتبہ افراد کی تلاش میں زیادہ تیزی سے کام کر سکیں گی، لیکن اس کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی شفاف احتساب کے ایسی طاقتور نگرانی کی ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس معاملے پر اب تک کوئی واضح وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے، جس سے عوام میں مزید شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کمپنیاں اسی طرح حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر نگرانی کے ایسے آلات تیار کرتی رہیں گی، تو مستقبل میں ذاتی آزادی کا تصور محض ایک خواب رہ جائے گا۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ مختلف ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹیز کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے گا تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ یہ خفیہ ٹول کس حد تک شہریوں کی زندگیوں میں مداخلت کر رہا ہے۔