World
شامی وزیر خارجہ اور موساد کے سربراہ کی اردن میں ملاقات
باخبر ذرائع کے مطابق شامی وزیر خارجہ نے اردن میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد خطے میں جاری کشیدگی اور نئی سفارتی ہلچل کے حوالے سے قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔
خطے کے باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے وزیر خارجہ نے اردن کے دارالحکومت میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کے ساتھ ایک اہم اور غیر اعلانیہ ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کو مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور شامی تنازع کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس خفیہ ملاقات میں دونوں فریقین کے درمیان سکیورٹی خدامات، سرحدی معاملات اور خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری جانب اسرائیل کی طرف سے شام کے اندر مختلف مقامات پر فضائی حملے جاری ہیں اور خطے میں بین الاقوامی طاقتیں بھی متحرک ہیں۔ حال ہی میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے شام میں اسرائیلی فضائی کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں صورتحال انتہائی پیچیدہ رخ اختیار کر چکی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اعلیٰ سطحی اور خفیہ رابطے خطے میں طویل مدتی سکیورٹی ڈھانچے کو تشکیل دینے یا موجودہ بحران کے کسی ممکنہ سفارتی حل کی طرف اشارہ ہو سکتے ہیں۔
شام اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے دشمنی چلی آ رہی ہے، اور اس پس منظر میں شامی اعلیٰ عہدیدار کا موساد کے سربراہ سے ملنا خطے کی سیاست میں ایک ڈرامائی تبدیلی کی عکاسی کر سکتا ہے۔ اردن کی جانب سے اس ملاقات کی میزبانی بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اردنی حکومت خطے میں امن اور استحکام کے لیے پس پردہ سفارت کاری میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کی حکومتوں کی جانب سے اس ملاقات کی باضابطہ تصدیق یا تردید ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں تجسس مزید بڑھ گیا ہے۔
آنے والے دنوں میں اس ملاقات کے اثرات خطے کی دیگر بڑی طاقتوں جیسے کہ ترکیہ، امریکہ اور ایران کے ساتھ تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے خفیہ رابطے آنے والے وقت میں مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ عالمی برادری اور علاقائی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ مذاکرات کسی بڑے سفارتی پیش رفت کا پیش خیمہ ہیں یا محض وقتی سکیورٹی انتظامات تک محدود ہیں۔