Sports
فیفا صدر جیانی انفنٹینو کو شدید بحران کا سامنا، نورڈک ممالک کی بغاوت
چھ نورڈک فٹ بال ایسوسی ایشنز نے فیفا صدر جیانی انفنٹینو کی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان ممالک نے فیفا کے گورننس کے ڈھانچے میں شفافیت اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے بھی زور دیا ہے۔
عالمی فٹ بال کی گورننگ باڈی فیفا کو اس وقت شدید بحران کا سامنا ہے جب چھ نورڈک ممالک کی فٹ بال ایسوسی ایشنز نے مشترکہ طور پر فیفا کے صدر جیانی انفنٹینو کی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن اور جزائر فارو پر مشتمل ان ممالک کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی فٹ بال کے معاملات کو چلانے کے لیے گورننس کے نظام میں فوری اور جامع اصلاحات کی جائیں۔ یہ اقدام فیفا کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یورپی اور ایشیائی کنفیڈریشنز پہلے ہی انفنٹینو کی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔
نارڈک ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ فیفا کی جانب سے ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس کے حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی متنازع تجویز کی ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ اگرچہ یہ منصوبہ عالمی سطح پر شدید تنقید کے بعد ترک کر دیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود فٹ بال کے حلقوں میں اب بھی گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ نورڈک ایسوسی ایشنز کا کہنا ہے کہ وہ فیفا سے یہ تحریری ضمانت چاہتے ہیں کہ مستقبل میں تنظیم کی گورننس یا مقابلوں کو کبھی بھی نجی ملکیت کے لیے نہیں کھولا جائے گا، تاکہ فٹ بال کی خودمختاری برقرار رہ سکے۔
انفنٹینو، جو اگلے سال ہونے والے انتخابات میں اپنی چوتھی مدت کے لیے دوبارہ امیدوار بننے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا شکار ہیں۔ یورپ کی یوئیفا (UEFA)، ایشیا کی اے ایف سی (AFC) اور شمالی و وسطی امریکہ کی کنکاف (Concacaf) جیسی بڑی تنظیمیں بھی ان کے مستعفی ہونے کے مطالبے کی حمایت کر رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فیفا کے اندر احتساب، شفافیت اور چیک اینڈ بیلنس کا وہ نظام موجود نہیں ہے جس کا وعدہ 2016 کے اصلاحاتی پروگرام کے تحت کیا گیا تھا۔
جوابی کارروائی کے طور پر انفنٹینو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کا دفاع کیا ہے۔ ڈومینیکن ریپبلک میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈائیلاگ اور تبادلہ خیال فٹ بال کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے اور وہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔ تاہم، فٹ بال کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر کانٹینینٹل کنفیڈریشنز کا دباؤ اسی طرح برقرار رہا تو فیفا کی اعلیٰ قیادت کو عنقریب تحریک عدم اعتماد جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو تنظیم کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔