LIVE
Loading Breaking News...

کیا کلین انرجی واقعی ماحول دوست ہے؟ ماہرین کا تجزیہ

News Image
مختلف ماہرین کی جانب سے ایم آئی ٹی کی کلین انرجی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی گئی ہے جن میں انہیں ماحولیاتی طور پر غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موسم پر منحصر توانائی کے ذرائع جدید صنعتی انقلاب کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلیوں اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کے درمیان 'کلین انرجی' یا صاف ستھری توانائی کا موضوع دنیا بھر میں بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ عرصے میں ایم آئی ٹی (MIT) اور دیگر تحقیقی اداروں کی جانب سے پیش کردہ کلین انرجی کے تصورات پر ماہرین کی ایک بڑی تعداد نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جن توانائی کے ذرائع کو ماحول دوست قرار دیا جا رہا ہے، حقیقت میں وہ ماحولیاتی اعتبار سے اتنے صاف نہیں ہیں جتنا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اس بحث میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا ہوا اور سورج سے حاصل ہونے والی توانائی اتنی مستحکم ہے کہ وہ عالمی صنعتی ضروریات کو پورا کر سکے۔ ماہرین کے مطابق، کلین انرجی کے منصوبے شدید موسمی تبدیلیوں پر منحصر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے توانائی کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ آج کے تیزی سے ترقی کرنے والے صنعتی انقلاب اور مصنوعی ذہانت کے دور میں، جہاں بجلی کی کھپت میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا ہے، وہاں صرف قابلِ تجدید ذرائع پر انحصار کرنا عملی طور پر مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ ذرائع ایک طویل مدتی حل کے بجائے محض ایک اضافی کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن وہ جدید معیشت کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ اس کے علاوہ، ان توانائی کے ذرائع کی تیاری اور تنصیب کے عمل میں استعمال ہونے والے خام مال اور پرزہ جات کی مینوفیکچرنگ بھی ایک بڑی ماحولیاتی قیمت رکھتی ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کلین انرجی کے ٹیکنالوجی آلات بنانے کے عمل میں بھاری مقدار میں کاربن کا اخراج ہوتا ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی کے 'کلین' ہونے کا تصور ہی متنازع ہو جاتا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا یہ موقف ہے کہ ٹیکنالوجی کے نام پر پیش کیے جانے والے ان متبادل ذرائع کو اس وقت تک پائیدار نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ ان کی مجموعی کارکردگی اور ماحولیاتی اثرات کا شفاف انداز میں موازنہ نہ کیا جائے۔ مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا مطالبہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں تحقیق کو صرف مخصوص سمتوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ دیگر متبادل اور زیادہ قابل اعتماد ذرائع پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ کلین انرجی کے حوالے سے ایم آئی ٹی جیسے اداروں کی پالیسیوں پر اٹھائے جانے والے یہ سوالات ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کو توانائی کے بحران سے نکلنے کے لیے مزید سنجیدہ، سائنسی اور حقائق پر مبنی نقطہ نظر کی ضرورت ہے، تاکہ مستقبل کی صنعتی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان ایک متوازن راستہ نکالا جا سکے۔