LIVE
Loading Breaking News...

غزہ سے اسرائیل پتنگیں بھیجے جانے پر کشیدگی، اسرائیلی ردعمل

News Image
غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی جانب پتنگیں بھیجے جانے کے واقعات کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جس سے 2018 کے پرتشدد واقعات کی یادیں تازہ ہو گئی ہیں۔ اسرائیلی حکام نے حماس کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے فوجی کارروائیوں میں شدت لانے کا عندیہ دیا ہے۔
غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی جانب پتنگیں بھیجے جانے کے واقعات نے ایک بار پھر خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے، جس سے 2018 کے دور میں پیش آنے والے آتش زنی کے تباہ کن حملوں کی یادیں تازہ ہو گئی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سرحدی علاقوں میں پتنگوں کے ملنے کے بعد اسرائیلی دفاعی حکام نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور حماس کو براہ راست ان واقعات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ مقامی رہائشیوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آج صرف پتنگیں بھیجی جا رہی ہیں تو کل یہ صورتحال دھماکہ خیز ڈرونز میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے، جو اسرائیل کے لیے ایک نیا سیکیورٹی چیلنج ہوگا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے ان واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر سرحد پار سے پتنگیں اور غبارے بھیجنے کا سلسلہ بند نہ ہوا تو اسرائیل غزہ کے اندر ٹارگٹڈ کلنگ اور بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیوں میں شدت لائے گا۔ اسرائیل کی جانب سے نئے انخلاء کے احکامات جاری کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں تاکہ سرحدی آبادی کو ممکنہ حملوں سے بچایا جا سکے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کشیدگی پہلے سے ہی غیر مستحکم حالات میں مزید جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، جس سے سرحد پر ایک نئی جنگی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب، غزہ کے سرحدی علاقوں کے مکینوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ایک علامت ہے جو برسوں سے جاری محاصرے کے خلاف شدید عوامی ردعمل کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم، اسرائیلی قیادت اسے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی جانے والی اشتعال انگیزی قرار دے رہی ہے۔ حماس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن کشیدگی کا یہ نیا مرحلہ ایک بار پھر خطے میں امن کی کوششوں کو تعطل کا شکار کر سکتا ہے۔ عالمی برادری نے فریقین پر تحمل برتنے پر زور دیا ہے تاکہ عام شہریوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے، لیکن زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ دونوں جانب سے سخت گیر مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔