World
کونکری میں کوڑے کا پہاڑ گرنے سے بڑا جانی نقصان
جمہوریہ گنی کے دارالحکومت کونکری میں شدید بارشوں کے بعد کوڑے کا پہاڑ گرنے سے کم از کم 30 افراد ہلاک ہوگئے۔ اس المناک حادثے میں کچرے کے ڈھیر نے قریبی رہائشی مکانات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔
جمہوریہ گنی کے دارالحکومت کونکری میں منگل کے روز پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد پورے ملک میں سوگ کی فضا قائم ہے۔ حکام کے مطابق شہر کے مضافات میں واقع ایک بڑے لینڈ فل (کچرے کے ڈھیر) کا ایک بڑا حصہ شدید بارشوں کے بعد اچانک نیچے کی جانب کھسک گیا، جس کی وجہ سے نیچے واقع رہائشی مکانات مکمل طور پر ملبے تلے دب گئے۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق اس حادثے میں اب تک 30 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ متعدد افراد کے اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کچرے کا یہ پہاڑ مسلسل بارشوں کی وجہ سے کمزور ہو چکا تھا جس کی وجہ سے اس کے توازن میں بگاڑ پیدا ہوا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ رات گئے ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے بعد لینڈ فل کے تودے گرنے کی آواز کسی زور دار دھماکے جیسی تھی۔ کچرے کے اس بڑے ڈھیر نے دیکھتے ہی دیکھتے قریبی غریب بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جہاں اکثر گھر کچی اینٹوں اور عارضی ڈھانچوں پر مشتمل تھے۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں کا آغاز کیا، تاہم بھاری مشینری کی بروقت عدم دستیابی کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق فوج اور ہنگامی خدمات کے اداروں کو علاقے میں طلب کر لیا گیا ہے تاکہ ملبے کے نیچے دبے افراد کو نکالنے کا عمل تیز کیا جا سکے۔
ماہرینِ ماحولیات اور شہری منصوبہ بندی کے حکام نے اس سانحے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کونکری میں کوڑے کو ٹھکانے لگانے کے موجودہ نظام میں سنگین نقائص موجود ہیں۔ شہر کی آبادی میں اضافے کے ساتھ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے مقامات کی گنجائش کم پڑ گئی ہے، جس کی وجہ سے لینڈ فلز کے ارد گرد انسانی آبادیوں کا بڑھنا خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اس سے قبل بھی خطے میں اس قسم کے واقعات کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم حالیہ تباہی نے انتظامیہ کی غفلت کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ صدر مملکت نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
فی الحال جائے وقوعہ پر سرچ آپریشن جاری ہے اور حکام کی جانب سے لوگوں کو کوڑے کے ڈھیر کے قریب جانے سے منع کر دیا گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید بارشوں کی صورت میں لینڈ فل کا بقیہ حصہ بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے متاثرہ علاقے کے آس پاس کے گھروں کو خالی کرانے کا عمل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ اس مشکل گھڑی میں متاثرین کی مدد کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔