LIVE
Loading Breaking News...

انویدیا اے آئی سرورز کی قیمتوں میں بڑا اضافہ متوقع

News Image
معروف ٹیکنالوجی کمپنی انویدیا نے اپنے بڑے صارفین کو مطلع کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سرورز کی قیمتوں میں اگلے سال کے آغاز سے اضافہ متوقع ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ میموری کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں اپنی اجارہ داری قائم رکھنے والی معروف کمپنی 'انویدیا' نے اپنے بڑے صارفین کو ایک اہم اطلاع دی ہے، جس کے تحت اگلے سال کے آغاز سے اے آئی چپس والے سرورز کی قیمتوں میں 15 فیصد سے زائد اضافہ متوقع ہے۔ کمپنی کی جانب سے یہ اقدام عالمی مارکیٹ میں میموری کے پرزہ جات کی بڑھتی ہوئی لاگت اور پیداواری اخراجات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی کی مانگ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور بڑی کمپنیاں جدید سرورز کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انویدیا کے جدید ترین اے آئی سرورز، خاص طور پر ایچ 100 (H100) اور دیگر جدید ماڈلز، دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ ان سرورز کی تیاری میں استعمال ہونے والی ہائی بینڈوڈتھ میموری (HBM) کی قیمتوں میں اضافے نے براہ راست حتمی پروڈکٹ کی قیمت پر اثر ڈالا ہے۔ انویدیا کے سب سے بڑے خریداروں کو مطلع کیا گیا ہے کہ سپلائی چین کے چیلنجز اور میموری کی کمی کے باعث سرورز کی تیاری کا عمل مہنگا ہو رہا ہے، جس کا بوجھ اب صارفین کو منتقل کیا جائے گا۔ انویدیا کی جانب سے یہ اعلان ایسے اہم موڑ پر کیا گیا ہے جب کمپنی اگلے ہفتے اپنی سہ ماہی آمدنی کی رپورٹ جاری کرنے والی ہے۔ سرمایہ کار اور ٹیکنالوجی کے تجزیہ کار اس رپورٹ کو انتہائی غور سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ اے آئی ہارڈویئر کی مانگ کس حد تک برقرار ہے اور قیمتوں میں اضافے کا کمپنی کی مجموعی منافع پر کیا اثر پڑے گا۔ اگرچہ قیمتوں میں اضافہ صارفین کے لیے پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے، لیکن انویدیا کا دعویٰ ہے کہ ان کے پراڈکٹس کی کارکردگی اور کمپیوٹنگ پاور اس اضافے کے باوجود مارکیٹ میں سب سے بہترین ہے۔ ٹیکنالوجی کے حلقوں میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سرورز کی قیمتوں میں اس اضافے سے چھوٹی کمپنیوں کے لیے اے آئی انفراسٹرکچر بنانا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ تاہم، بڑی ٹیک کمپنیاں جو اپنے ڈیٹا سینٹرز میں انویدیا کے پرزے استعمال کر رہی ہیں، وہ پہلے ہی سے اس طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے تیار دکھائی دیتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے سال جنوری سے شروع ہونے والی یہ قیمتوں میں تبدیلی عالمی اے آئی انڈسٹری کے پھیلائو پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔