LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا میں آن لائن انتہا پسندی اور نئی بھرتیوں کی حکمت عملی

News Image
انڈونیشیا کی وزارتِ مواصلات نے خبردار کیا ہے کہ انتہا پسند گروپ مالی امداد کا جھانسہ دے کر نوجوانوں کو آن لائن بھرتی کر رہے ہیں۔ حکومت نے اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔
جکارتا: انڈونیشیا کی وزارت مواصلات اور ڈیجیٹل امور نے ایک اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسند اور انتہا پسند گروہ اب آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو پھانسنے کے لیے مالی امداد اور سماجی بہبود کی پیشکشوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق، یہ گروہ خاص طور پر معاشی طور پر کمزور اور متاثرہ طبقے کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ انہیں آسان ہدف بنا کر اپنی صفوں میں شامل کیا جا سکے۔ اس نئی اور خطرناک حکمت عملی کے تحت سوشل میڈیا اور مختلف ڈیجیٹل چیٹس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزیر مواصلات میوتیا حفیظ نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ روایتی طریقہ کار کے برعکس اب انتہا پسند تنظیمیں نظریاتی بحثوں کی بجائے براہ راست مالی معاونت، قرضوں کی معافی اور امدادی پیکیجز کا جھانسہ دے رہی ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں اس قسم کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ فتہ پرور عناصر کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔ انہوں نے تمام شہریوں، بالخصوص نوجوان طبقے اور ان کے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ آن لائن ملنے والی ایسی نامعلوم پیشکشوں کے بارے میں انتہائی محتاط رہیں۔ انڈونیشیائی حکومت نے ملک میں سائبر سکیورٹی کے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس نوعیت کے آن لائن نیٹ ورکس کی نشاندہی کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے منتظمین سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ ایسے اکاؤنٹس اور گروپس کو فوری طور پر بلاک کیا جا سکے جو دہشت گردی یا انتہا پسندی کے لیے مالی رقوم کی تقسیم یا پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ ملک کے ڈیجیٹل اسپیس کو انتہا پسندوں کے لیے غیر محفوظ بنا دیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں کافی نہیں ہیں، بلکہ اس کے لیے عوامی سطح پر ڈیجیٹل لٹریسی اور آگاہی مہم چلانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ والدین اور تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ وہ کسی بھی فریب کا شکار نہ ہوں۔ انڈونیشیا کی جانب سے اٹھائے جانے والے یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔