LIVE
Loading Breaking News...

اوبر کو ڈیٹا کی خلاف ورزی پر ایک ارب ڈالر کا جرمانہ

News Image
نیدرلینڈز کے ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی نے اوبر کو یورپی ڈرائیوروں کا حساس ڈیٹا غیر قانونی طور پر منتقل کرنے پر 964 ملین ڈالر کا جرمانہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اوبر کے خودکار سسٹمز کے ذریعے ڈرائیوروں کے اکاؤنٹس معطل کرنے کی شکایات کے بعد سامنے آیا ہے۔
نیدرلینڈز کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی (AP) نے امریکی رائیڈ ہیلنگ کمپنی اوبر پر تقریباً 825 ملین یورو یعنی 964 ملین امریکی ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ کارروائی کمپنی کی جانب سے اپنے ڈرائیوروں کے حساس ڈیٹا کو یورپی یونین سے باہر منتقل کرنے اور اسے طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کے ضوابط کی خلاف ورزی پر کی گئی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق، اوبر نے یورپی ڈرائیوروں کی ذاتی معلومات، بشمول لوکیشن ڈیٹا، طبی رپورٹس اور دیگر حساس معلومات، امریکہ میں قائم اپنے ہیڈکوارٹرز کو منتقل کیں، جس سے یورپی شہریوں کے ڈیٹا کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہوئے۔ اس معاملے کی ابتدا تب ہوئی جب فرانس میں قائم انسانی حقوق کی تنظیموں نے سینکڑوں ڈرائیوروں کی جانب سے شکایات جمع کروائیں۔ ان شکایات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اوبر کے خودکار سسٹمز (Algorithms) نے شفافیت کے بغیر ڈرائیوروں کے اکاؤنٹس کو معطل کر دیا، جس کی وجہ محض دھوکہ دہی کا شبہ یا گاہکوں کی جانب سے کم ریٹنگ تھی۔ یورپی یونین کے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (GDPR) کے تحت کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ صارفین اور ملازمین کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اسے بلا اجازت یا مناسب سیکیورٹی کے بغیر کسی دوسرے ملک منتقل نہ کریں۔ اوبر کے ترجمان نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کمپنی اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اوبر کا موقف ہے کہ ان کا ڈیٹا ٹرانسفر کا طریقہ کار بین الاقوامی معیارات کے مطابق تھا اور انہوں نے صارفین کی پرائیویسی کو کبھی داؤ پر نہیں لگایا۔ تاہم، ڈچ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ اوبر کی جانب سے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات ناکافی تھے، جس کی وجہ سے یہ بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ یہ پیشرفت ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ یورپی یونین اب ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین پر انتہائی سختی سے عمل پیرا ہے۔ اس سے قبل بھی گوگل، میٹا اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر جی ڈی پی آر کی خلاف ورزیوں پر اربوں ڈالر کے جرمانے کیے جا چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اوبر کے لیے یہ جرمانہ نہ صرف ایک بڑی مالی ضرب ہے بلکہ اس سے کمپنی کے کاروباری ماڈل اور خودکار فیصلوں کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھتے ہیں، جن پر مستقبل میں مزید سخت نگرانی کی توقع کی جا رہی ہے۔