LIVE
Loading Breaking News...

میٹا کے شیئرز میں گراوٹ، مصنوعی ذہانت کے اخراجات پر سرمایہ کاروں کی تنقید

News Image
مصنوعی ذہانت کے منصوبوں پر بے پناہ اخراجات جاری رکھنے کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی کے باعث فیس بک اور انسٹاگرام کی ہولڈنگ کمپنی میٹا کے شیئرز میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ کمپنی کو اسٹریٹجک تبدیلیوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے مارکیٹ میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
دنیا کی معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار ہونے والی فیس بک اور انسٹاگرام کی سرپرست کمپنی 'میٹا' کے شیئرز میں بدھ کے روز اس وقت شدید مندی دیکھی گئی جب سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے منصوبوں پر جاری بھاری اخراجات کے منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب کمپنی نے اپنے منافع میں کمی کے باوجود اے آئی اور اس سے جڑے دیگر مستقبل کے پروجیکٹس کے لیے فنڈنگ جاری رکھنے کا پختہ عزم ظاہر کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ اتنے بڑے پیمانے پر سرمائے کا انحصار ایسے منصوبوں پر ہوگا جن کا فوری مالیاتی منافع تحال غیر یقینی ہے۔ میٹا کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کا مستقبل ہے اور اس میدان میں سب سے آگے رہنے کے لیے طویل المدتی بنیادوں پر بھاری سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ کمپنی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے اور نئے فیچرز متعارف کرانے کے لیے جدید ترین اے آئی ماڈلز پر کام جاری رکھیں گے۔ تاہم، وال اسٹریٹ اور دیگر مالیاتی منڈیوں میں اس حکمت عملی کو فی الحال خطرے کی علامت سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قلیل مدت میں کمپنی کے منافع کے حاشیے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی مارکیٹ کے مبصرین کا ماننا ہے کہ میٹا کو اس وقت ایک نازک توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف جہاں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا خوف ہے، وہیں دوسری طرف سرمایہ کاروں کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے جو فوری منافع اور مالیاتی استحکام کے خواہاں ہیں۔ حالیہ شیئرز کی گراوٹ اس بات کا غماز ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں کے لیے اے آئی کی منڈی میں اپنی برتری قائم رکھنا انتہائی مہقہ سودا ثابت ہو رہا ہے اور آنے والے دنوں میں کمپنیوں کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔