World
گولان کی پہاڑیوں پر امریکی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں، ٹام بیرک کی وضاحت
ترکی میں تعینات امریکی سفیر نے وضاحت کی ہے کہ شام کی مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خودمختاری کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یہ بیان سفیر کے اس پہلے بیان کے برعکس ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر گولان کو مقبوضہ قرار دینے سے گریز کیا تھا۔
ترکی میں تعینات امریکی سفیر ٹام بیرک نے شام کی مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے بارے میں اپنے حالیہ متنازع تبصروں کے بعد باضابطہ طور پر وضاحت جاری کر دی ہے۔ سفیر نے واضح کیا ہے کہ شام کے اس علاقے پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کرنے سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور امریکہ کا موقف بدستور وہی ہے جو پہلے تھا۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سفیر کے پہلے بیان کو گولان کی حیثیت کے حوالے سے ایک ممکنہ تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، جس نے سفارتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی تھی۔
امریکی سفیر کی جانب سے جاری کردہ اس بیان میں زور دیا گیا ہے کہ واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر علاقائی تنازعات کے حوالے سے خارجہ پالیسی کے ستون مستحکم ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیلی حدود کا حصہ تسلیم کرنے کا امریکی فیصلہ اپنی جگہ برقرار ہے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی کی گنجائش نہیں ہے۔ ٹام بیرک کا کہنا تھا کہ ان کا پہلا تبصرہ شاید سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، تاہم اب یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ موجودہ انتظامیہ سابقہ فیصلوں کا احترام کرتی ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکہ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کا ایک اہم اور متنازع فیصلہ کیا تھا، جس پر بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔ شام نے اس فیصلے کو اپنی علاقائی سالمیت کے خلاف اقدام قرار دیا تھا، جبکہ اقوام متحدہ نے بھی اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اب ٹام بیرک کی جانب سے اس بیان کی واپسی یا وضاحت کو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسی پرانے موقف کو برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اس وضاحت کا مقصد خطے میں موجودہ کشیدہ صورتحال کے درمیان کسی بھی قسم کے غیر ضروری سفارتی تنازع سے بچنا ہے۔ امریکی سفارت کاری اب کوشش کر رہی ہے کہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور خطے میں استحکام کے لیے پرانی پالیسیوں کو ہی بنیاد بنایا جائے تاکہ مزید پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں۔ ٹام بیرک کا یہ بیان اب اس معاملے پر پھیلی ہوئی قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے کافی سمجھا جا رہا ہے۔