LIVE
Loading Breaking News...

فلاک سیفٹی: عوامی سیکیورٹی اور پرائیویسی کے تنازع پر سی ای او کا ردعمل

News Image
فلاک سیفٹی کے سربراہ گیریٹ لینگلی نے کیمروں کے خلاف عوامی مزاحمت اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نجی زندگی کے تحفظ اور عوامی سیکیورٹی کے درمیان توازن قائم کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے کے لیے قومی سطح پر ایک نئے سمجھوتے کی ضرورت ہے۔
فلاک سیفٹی کے سی ای او گیریٹ لینگلی نے حال ہی میں ایک اہم انٹرویو کے دوران امریکہ میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی کیمروں اور ان کے خلاف عوامی مزاحمت کے مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ملک بھر میں جہاں ایک جانب جرائم کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور کیمروں کا نیٹ ورک پھیلایا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب شہریوں میں نجی زندگی کے تحفظ (پرائیویسی) کے حوالے سے تحفظات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں کیمروں کے کھمبوں کو نقصان پہنچانے اور انہیں توڑنے کے واقعات اس بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ لینگلی کا کہنا ہے کہ یہ وقت ایک قومی سمجھوتے کی متقاضی ہے جہاں ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکیورٹی فراہم کرنے والے ادارے اور عام شہری ایک میز پر بیٹھ کر اس بات کا تعین کریں کہ کون سی حدود کسی کی نجی زندگی میں دخل اندازی کا باعث نہیں بنیں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ کافی نہیں، بلکہ اس کا شفاف استعمال بھی ضروری ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہ سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر عوام اس ٹیکنالوجی کو اپنے تحفظ کے بجائے نگرانی کے ایک آلے کے طور پر دیکھیں گے تو اس کے خلاف ردعمل ناگزیر ہوگا۔ مزید برآں، فلاک سیفٹی کے سربراہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ کیمروں کا مقصد صرف جرائم کی تحقیقات میں پولیس کی مدد کرنا ہے نہ کہ ہر عام شہری کی سرگرمیوں کو ریکارڈ کرنا۔ انہوں نے تجویز دی کہ مستقبل میں ایسے ضوابط مرتب کیے جانے چاہئیں جو کمپنیوں کو پابند کریں کہ وہ پرائیویسی کے معیارات پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال اور انسانی حقوق کے درمیان ایک ایسا توازن تلاش کرنا ضروری ہے جو معاشرے میں سیکیورٹی کے احساس کو بھی تقویت دے اور آزادی کو بھی برقرار رکھے۔ آخر میں، گیریٹ لینگلی نے واضح کیا کہ اگر سیکیورٹی کے حوالے سے عوامی خدشات کو دور نہ کیا گیا تو یہ ٹیکنالوجی اپنی افادیت کھو دے گی۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ ایک ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں تاکہ سیکیورٹی کیمروں کو ایک متنازعہ موضوع کے بجائے عوامی تحفظ کے لیے ایک قابل قبول ٹول کے طور پر دیکھا جائے۔ یہ بحث اب امریکہ میں ایک بڑے قومی مباحثے کی شکل اختیار کر رہی ہے کہ آیا جدید دور میں سیکیورٹی کو پرائیویسی پر ترجیح دی جانی چاہیے یا نہیں۔