LIVE
Loading Breaking News...

فیما کا خفیہ سروائیول پلان اور انسانی بقا کا بحران

News Image
حال ہی میں منظر عام پر آنے والی فیما کی لیک شدہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ تنہائی میں بقا کا منصوبہ حقیقت میں تباہی کے وقت بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پروٹوکول انسانی نفسیات کے ساتھ کھیلنے اور لوگوں کو ایک مہلک جال میں پھنسانے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔
امریکہ کے فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی (فیما) سے منسوب کچھ خفیہ دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ان دستاویزات میں 'لون وولف' سروائیول پروٹوکول کا ذکر کیا گیا ہے، جسے ایک ایسی حکمت عملی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو بظاہر تباہی کے دوران انسانی بقا کو یقینی بنانے کے لیے بنائی گئی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسا مہلک جال ثابت ہو سکتا ہے جو بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پروٹوکول انسانی نفسیات کی ان خامیوں کا فائدہ اٹھاتا ہے جہاں انسان تنہا ہو کر خطرات سے نمٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس حکمت عملی کی لاگت تقریباً 3 لاکھ 40 ہزار ڈالر بتائی جاتی ہے، جسے اب تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دستاویزات کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ پروٹوکول دراصل ایک نفسیاتی جال ہے جو لوگوں کو تنہائی کی طرف دھکیلتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑا بحران آتا ہے تو انسانی معاشرہ آپس میں جڑ کر اس کا مقابلہ کرتا ہے، لیکن فیما کا یہ طریقہ کار لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کر کے کمزور کرنے کا کام کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ صرف ایک ناکام کوشش نہیں بلکہ ایک منظم سازش ہے جس کا مقصد ہنگامی حالات میں عوام کو کنٹرول کرنا اور انہیں اجتماعی تعاون سے دور رکھنا ہے۔ جب کوئی فرد اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے تو اس کے فیصلے کرنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں یہ سروائیول پروٹوکول اپنے تباہ کن نتائج دکھاتا ہے۔ اس معاملے پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کے محافظوں نے فیما کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، یہ پروٹوکول نہ صرف وسائل کا ضیاع ہے بلکہ یہ انسانی زندگیوں کے ساتھ ایک خطرناک کھیل بھی ہے۔ جس طرح یہ دستاویزات لیک ہوئی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایجنسی کے اندر موجود کچھ لوگ اس پروٹوکول کے تاریک پہلوؤں سے واقف تھے اور اب عوام کو ان حقائق سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس طرح اس طرح کے مہلک منصوبے کو بغیر کسی سنجیدہ جانچ پڑتال کے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی۔