LIVE
Loading Breaking News...

پیٹر تھیل: بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری اور مارکیٹ ہیرا پھیری

News Image
پیلنٹیر کے شریک بانی پیٹر تھیل نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی منافقت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارے اپنی اجارہ داری چھپانے کے لیے سخت مقابلے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ مارکیٹ میں بڑی ٹیک کمپنیاں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔
پیلنٹیر (Palantir) کے شریک بانی پیٹر تھیل نے ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے ناموں کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تلخ حقیقت بیان کی ہے۔ تھیل کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں، جو بظاہر ایک دوسرے کے ساتھ سخت مقابلے میں نظر آتی ہیں، درحقیقت اپنی اجارہ داری کو چھپانے کے لیے ایک مصنوعی بیانیہ تشکیل دیتی ہیں۔ ان کے مطابق، کسی بھی ایسی کمپنی کے لیے جو مارکیٹ میں مکمل غلبہ رکھتی ہو، یہ حکمت عملی اپنانا ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ دنیا کو یہ یقین دلائے کہ وہ شدید مسابقت کا سامنا کر رہی ہے، تاکہ ریگولیٹرز اور حکومتی اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے۔ مائیکروسافٹ، میٹا (فیس بک) اور گوگل جیسی کمپنیاں آج جس پیمانے پر کام کر رہی ہیں، وہ گزشتہ دہائیوں میں ناقابل تصور تھا۔ پیٹر تھیل کا استدلال ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی طاقت کو اس طرح بڑھاتی ہیں کہ کوئی دوسرا ادارہ ان کے مقابلے میں کھڑا ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ تاہم، جب بھی ان پر اجارہ داری کے الزامات لگتے ہیں یا اینٹی ٹرسٹ قوانین کے تحت ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، تو یہ کمپنیاں اپنے چھوٹے حریفوں یا کسی مخصوص شعبے میں ہونے والے معمولی مقابلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ مارکیٹ ابھی بھی کھلا میدان ہے جہاں ہر کسی کو برابر مواقع میسر ہیں۔ ماہرینِ معاشیات اور تکنیکی تجزیہ کار بھی پیٹر تھیل کی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ بڑی ٹیک کمپنیاں مارکیٹ کے قوانین کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے میں ماہر ہیں۔ وہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے تجزیے کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ایسی رکاوٹیں کھڑی کر دیتی ہیں جنہیں عبور کرنا نئے اسٹارٹ اپس کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔ تھیل کا یہ بیان دراصل ان ریگولیٹرز کے لیے ایک انتباہ ہے جو ان کمپنیوں کے 'مصنوعی مقابلے' کے دعووں پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک حقیقی اجارہ دار کمپنی کبھی بھی اپنی طاقت کا اعتراف نہیں کرتی بلکہ ہمیشہ خود کو کسی نامعلوم 'خطرے' یا 'مقابلے' سے دوچار دکھاتی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے پیٹر تھیل کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری یہ غیر منصفانہ مقابلہ صارفین کے لیے طویل المدتی نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر کمپنیاں اسی طرح اپنے غلبے کو چھپانے کے لیے ڈرامائی حربے استعمال کرتی رہیں، تو مارکیٹ میں جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کا گلا گھٹ جائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی سطح پر ان ٹیک ٹائٹنز کی کاروباری سرگرمیوں کا بغور جائزہ لیا جائے تاکہ ایک شفاف اور منصفانہ کاروباری ماحول کو یقینی بنایا جا سکے، جہاں صرف طاقت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ میرٹ اور جدت پر مبنی مسابقت کا امکان ہو۔