World
خلیج بنگال میں کارگو جہاز ڈوب گیا: بڑے ریسکیو آپریشن کا آغاز
بھارت کی مشرقی ساحلی حدود میں پاناما کے جھنڈے بردار کارگو جہاز کے ڈوبنے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے دو چینی شہریوں کو بحفاظت نکال لیا ہے جبکہ دیگر 22 لاپتہ ملاحوں کی تلاش جاری ہے۔
بھارت کی مشرقی ساحلی حدود میں واقع خلیج بنگال میں ایک بڑے بحری حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں زور و شور سے جاری ہیں۔ پاناما کے پرچم تلے چلنے والا ایک کارگو جہاز سمندر کی تند و تیز لہروں کے باعث ڈوب گیا، جس کے بعد جہاز کے عملے کی طرف سے ہنگامی مدد کا سگنل بھیجا گیا۔ بھارتی کوسٹ گارڈ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے امدادی آپریشن شروع کیا اور اب تک دو افراد کو بحفاظت پانی سے نکالنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ بچائے جانے والے دونوں افراد کا تعلق چین سے بتایا جا رہا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے جہاز پر کل 24 افراد سوار تھے، جن میں سے دو کو نکالنے کے بعد اب 22 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے بھارتی کوسٹ گارڈ کے بحری جہازوں اور طیاروں کو کام پر لگا دیا گیا ہے۔ خلیج بنگال میں جاری یہ ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل حالات میں کیا جا رہا ہے کیونکہ سمندر میں لہروں کی اونچائی اور موسم کی خراب صورتحال تلاش کے کام میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔
بھارتی حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں کہ جلد از جلد لاپتہ ملاحوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس کارگو جہاز کے ڈوبنے کی وجوہات کے بارے میں ابھی تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم ابتدائی تحقیقات میں تکنیکی خرابی یا خراب موسم کو ممکنہ وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی بحری قوانین کے تحت اس حادثے کی تحقیقات کے لیے بھی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
اس وقت پوری توجہ لاپتہ ہونے والے 22 افراد کی زندگیوں کو بچانے پر مرکوز ہے۔ کوسٹ گارڈ اور بھارتی بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جب تک تمام ملاحوں کا پتہ نہیں چل جاتا یا تلاش کا کام کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتا، آپریشن جاری رہے گا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بحری سفر کے دوران حفاظتی معیارات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، جبکہ علاقائی ممالک بھی اس امدادی کارروائی میں تعاون کے لیے الرٹ پر ہیں۔