LIVE
Loading Breaking News...

مارک رفالو کا پیراماؤنٹ اسٹوڈیو کو کرارا جواب، سام دشمنی کے الزامات مسترد

News Image
مشہور ہالی ووڈ اداکار مارک رفالو نے پیراماؤنٹ اسٹوڈیو کی جانب سے اپنے حالیہ بیانات پر لگائے گئے 'سام دشمنی' کے الزامات کا سخت جواب دیا ہے۔ اداکار نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا مقصد صرف انسانی حقوق کی بات کرنا تھا۔
مشہور امریکی اداکار اور سماجی کارکن مارک رفالو نے پیراماؤنٹ اسٹوڈیو کی جانب سے اپنے حالیہ بیانات پر لگائے گئے 'سام دشمنی' (Antisemitism) کے الزامات کا سخت الفاظ میں جواب دیا ہے۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب رفالو نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اسٹوڈیوز کے انضمام اور پالیسیوں پر تنقید کی تھی، جس کے بعد اسٹوڈیو انتظامیہ نے ان کے الفاظ کو نفرت انگیز قرار دینے کی کوشش کی۔ مارک رفالو، جو اپنے بے باک انداز کے لیے جانے جاتے ہیں، نے اس معاملے پر ایک طویل وضاحتی بیان جاری کیا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید کا مقصد کسی مذہب یا طبقے کے خلاف تعصب پھیلانا نہیں بلکہ کارپوریٹ کلچر اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرنا تھا۔ اداکار کا کہنا تھا کہ انہیں 'سام دشمن' قرار دینا ایک خطرناک اور بے بنیاد الزام ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اپنے تفصیلی بیان میں انہوں نے زور دیا کہ وہ ہمیشہ مظلوموں اور انصاف کے حق میں بولتے رہے ہیں اور ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ مارک رفالو نے کہا کہ جب کوئی شخصیت عوامی فورمز پر سیاسی یا سماجی مسائل پر بات کرتی ہے تو اس قسم کے ہتھکنڈوں کا استعمال اسے خاموش کرانے کے لیے کیا جاتا ہے، تاہم وہ اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحث و مباحثہ جمہوریت کا حسن ہے اور تنقید کو نفرت کے زمرے میں ڈالنا اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔ ہالی ووڈ کے حلقوں میں اس معاملے نے کافی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک طرف مارک رفالو کے مداح اور دیگر سماجی کارکن ان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں، وہیں اسٹوڈیو کے اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلمی اسٹوڈیوز اکثر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایسے الزامات کا سہارا لیتے ہیں تاکہ معروف شخصیات کی آواز کو دبایا جا سکے۔ مارک رفالو نے آخر میں اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی انسانیت اور عالمی مسائل پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔