World
شام اور اسرائیل تعلقات، شامی وزیر خارجہ کا اہم بیان
شامی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تلخ تعلقات کے باوجود اسرائیل کے ساتھ سفارتی بات چیت کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان شدید بداعتمادی پائی جاتی ہے لیکن سفارت کاری کی گنجائش موجود ہے۔
شام کے وزیر خارجہ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں شدید تناؤ اور گہری بداعتمادی پائی جاتی ہے، تاہم ان کا ملک سفارتی ذرائع کو مکمل طور پر بند کرنے کا قائل نہیں ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کا گراف مسلسل بلند ہو رہا ہے اور اسرائیل کی جانب سے شام میں فضائی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وزیر خارجہ کے اس موقف کو مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک غیر متوقع پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت کے امکانات تقریباً معدوم سمجھے جاتے تھے۔
دوسری جانب، زمینی حقائق انتہائی پیچیدہ ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے شام کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ امریکی حکام نے بھی حالیہ اسرائیلی فضائی کارروائیوں پر تنقید کی ہے اور انٹیلی جنس معلومات میں غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے باوجود، سفارتی سطح پر یہ اشارہ دینا کہ دروازے کھلے ہیں، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دمشق شاید بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کر رہا ہے۔ ترکیہ اور دیگر علاقائی طاقتوں کے کردار کو دیکھتے ہوئے، مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں پس پردہ سفارت کاری میں تیزی آ سکتی ہے۔
ماہرینِ امورِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات 'ابراہیمی معاہدوں' کے بعد کے دور میں ایک نئی جغرافیائی حقیقت کو جنم دے رہے ہیں۔ اگرچہ شام کا اسرائیل کے ساتھ کوئی باضابطہ سفارتی تعلق نہیں ہے اور دونوں ممالک تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں تصور کیے جاتے ہیں، مگر سفارت کاری کے لیے اس طرح کے اشارے ایک اہم پیش رفت ہیں۔ شامی وزیر خارجہ کا یہ بیان اس بات کی تصدیق ہے کہ دمشق خطے میں جاری سیاسی افراتفری میں اپنے لیے راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
آخر میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا اسرائیل کی جانب سے ان پیشکشوں کا کوئی مثبت جواب آتا ہے یا نہیں۔ اسرائیل کی داخلی سیاسی صورتحال اور سیکیورٹی ایجنڈا، خاص طور پر شام میں ایرانی موجودگی کے حوالے سے، اس سفارت کاری کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم، طویل عرصے بعد شامی قیادت کی جانب سے سفارتی آپشنز کو کھلا رکھنے کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سفارتی محاذ پر نئی صف بندیاں ہو سکتی ہیں۔