Health
این ایچ ایس ڈینٹل بحران: برطانیہ میں دانتوں کے علاج کی سہولیات کیوں کم ہو رہی ہیں؟
برطانیہ میں این ایچ ایس ڈینٹل سروسز کے بحران میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ ایک دہائی کے دوران 600 سے زائد کلینکس نے حکومتی خدمات چھوڑ دی ہیں۔ مریضوں کو علاج کے لیے اب ایک دو سطحی نظام کا سامنا ہے جہاں نجی علاج ہی واحد راستہ رہ گیا ہے۔
برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے تحت دانتوں کے علاج کی سہولیات تک رسائی ایک سنگین مسئلہ بن کر ابھر رہی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ دس سالوں کے دوران انگلینڈ بھر میں تقریباً 600 ڈینٹل پریکٹسز نے این ایچ ایس کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کے لیے سستے علاج کے مواقع محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ سنگین ہے جہاں پہلے ہی صحت کی سہولیات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ہیلتھ کیئر کے شعبے کو ایک ایسے دو سطحی نظام کی طرف دھکیل رہا ہے جہاں صرف وہی لوگ علاج کروا سکتے ہیں جو نجی معالجین کی بھاری فیس ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
اس بحران کی بنیادی وجوہات میں این ایچ ایس کے موجودہ معاہدوں کی شرائط اور فنڈنگ کی کمی کو سرفہرست قرار دیا جا رہا ہے۔ بہت سے ڈینٹسٹوں کا ماننا ہے کہ سرکاری فنڈنگ سے چلنے والے کلینکس پر کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے، جبکہ معاوضے کے ڈھانچے میں طویل عرصے سے کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں لائی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں دانتوں کے ڈاکٹر اب اپنی پریکٹس کو نجی شعبے میں منتقل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ وہ اخراجات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ منافع بخش کاروبار کر سکیں۔ اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے طبقے اور ان علاقوں کے رہائشیوں پر پڑا ہے جہاں نجی ڈینٹسٹوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔
صورتحال اتنی بگڑ چکی ہے کہ کئی مقامات پر مریضوں کو اپنے دانتوں کے علاج کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے، یا پھر انہیں نجی طور پر علاج کروانے پر مجبور کیا جاتا ہے جو ان کے بجٹ سے باہر ہوتا ہے۔ مقامی حکام اور عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ڈینٹل سروسز کے لیے ایک نیا لائحہ عمل مرتب کرے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں این ایچ ایس کے تحت دانتوں کا علاج مکمل طور پر ناپید ہو جائے گا، جس سے عوامی صحت کا ایک بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔ شہریوں کے لیے یہ ایک بڑی تشویش کا باعث ہے کہ ان کی رہائش کا مقام اب ان کی صحت کے معیار کا فیصلہ کر رہا ہے۔