LIVE
Loading Breaking News...

انڈومیٹریوسس کیا ہے؟ کم عمر لڑکیوں میں تشخیص کے چیلنجز

News Image
صرف چودہ سال کی عمر میں انڈومیٹریوسس کے شدید درد کا سامنا کرنے والی گریس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے ابتدا میں اس کی تکلیف کو غیر سنجیدہ لیا تھا۔ اب وہ دیگر لڑکیوں میں اس بیماری کی علامات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔
صحت کے عالمی ماہرین کے مطابق انڈومیٹریوسس ایک ایسی تکلیف دہ بیماری ہے جس میں رحم کی اندرونی تہہ کے خلیات رحم سے باہر نشوونما پانے لگتے ہیں، تاہم اس بیماری کی تشخیص اکثر طویل عرصے تک نہیں ہو پاتی۔ چودہ سالہ گریس، جو اس وقت اس تکلیف دہ سفر سے گزر رہی ہے، نے انکشاف کیا کہ جب وہ 13 سال کی تھی تو شدید درد کے باوجود ڈاکٹروں نے اسے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے اور اسے ایسی بیماری لاحق نہیں ہو سکتی۔ گریس کے مطابق اس کا درد اس قدر ناقابل برداشت تھا کہ اسے سکون پانے کے لیے مارفین جیسی طاقتور ادویات کا سہارا لینا پڑا۔ گریس کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ڈاکٹروں کے رویے کا بھی مسئلہ ہے جنہوں نے اس کی تکلیف کو محض 'بچپنا' یا 'معمول کی تکلیف' سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ اس نے بتایا کہ جب وہ اسکول اور اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں ناکام ہو رہی تھی تو اسے محسوس ہوا کہ اس کے جسم میں کچھ سنگین تبدیلیاں آ رہی ہیں، لیکن طبی عملے نے اس کی شکایتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ یہ تجربہ نہ صرف اس کی جسمانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوا بلکہ اس نے اس کی ذہنی صحت اور اعتماد پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اب گریس انڈومیٹریوسس کے بارے میں عوامی بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک مہم کا حصہ بن چکی ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ اگر کم عمری میں ہی لڑکیوں کی بات سنی جائے اور بروقت تشخیص کی جائے تو بہت سی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ انڈومیٹریوسس کی علامات میں شدید ماہواری کا درد، پیٹ کے نچلے حصے میں مستقل کھچاؤ اور جسمانی کمزوری شامل ہیں۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ اگر کوئی بچی ماہواری کے دوران غیر معمولی درد کی شکایت کرے تو اسے محض درد کش ادویات پر اکتفا کرنے کے بجائے کسی ماہر امراضِ نسواں سے رجوع کرنا چاہیے۔ گریس کی یہ کہانی ان ہزاروں لڑکیوں کی نمائندگی کرتی ہے جو تشخیص کے طویل عمل کے دوران تکلیف اور مایوسی کا شکار ہوتی ہیں۔ اس نے اپنی جدوجہد کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ درد کو کبھی بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے اور ہر لڑکی کو اپنے جسم میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں کے بارے میں کھل کر بات کرنی چاہیے۔ بروقت تشخیص ہی اس موذی مرض سے نجات اور بہتر معیارِ زندگی کی ضمانت ہو سکتی ہے۔