World
کینیڈا میں یہودی مخالف واقعات اور سکیورٹی انٹیلی جنس کی ناکامی پر رپورٹ
نئی رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں یہودی مخالف واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جو ملک کو بڑے سکیورٹی بحران کے دہانے پر لے آیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ناکافی انٹیلی جنس اقدامات کسی بھی بڑے جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ایک تازہ ترین اور چونکا دینے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں یہودی برادری کے خلاف بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات نے سنگین نوعیت اختیار کر لی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران یہودیوں کے لیے حالات انتہائی کٹھن رہے ہیں اور سکیورٹی اداروں کی مبینہ غفلت یا انٹیلی جنس کی خامیوں کی وجہ سے صورتحال خطرناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں کینیڈا کسی بھی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے واقعے سے صرف ایک انٹیلی جنس ناکامی کے فاصلے پر کھڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگرچہ گزشتہ سال کے مقابلے میں بعض اعداد و شمار میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے اور کل واقعات کی تعداد گھٹ کر 788 پر آ گئی ہے، تاہم مجموعی طور پر یہودی مخالف رجحانات میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ شرح فی ہزار یہودی باشندوں کے حساب سے دو رپورٹ شدہ واقعات بنتی ہے جو کہ معاشرتی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے تحفظ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار بیس کے مقابلے میں نفرت انگیز جرائم میں پچاس فیصد سے زائد کا نمایاں اور تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔ کینیڈا کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس حکام کو اس حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ وہ برادری کے تحفظ کے لیے مؤثر اور دیرپا لائحہ عمل تیار کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے سانحے کو روکا جا سکے اور ملک میں رہنے والی تمام اقلیتوں بالخصوص یہودی برادری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔