Technology
چاند پر وقت کا نیا معیار: قمری ٹائم زون کے قیام کا عالمی منصوبہ
عالمی طاقتیں چاند پر موجود قدرتی وسائل کے حصول کے لیے وہاں کے معیاری وقت کا تعین کرنے پر کام کر رہی ہیں۔ اکتوبر میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران چاند کے لیے 'گرین وچ مون ٹائم' جیسے کسی مشترکہ نظام پر فیصلہ کیا جائے گا۔
دنیا بھر کی بڑی طاقتیں اب چاند کی سطح پر موجود قیمتی قدرتی وسائل کے حصول کے لیے ایک نئی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں، جس کے پیشِ نظر اب چاند پر وقت کا ایک معیاری نظام تشکیل دینے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ سائنسدانوں اور بین الاقوامی خلائی اداروں کا ماننا ہے کہ اگر چاند پر مستقل انسانی اڈے قائم کرنے ہیں اور وہاں کان کنی (Mining) جیسے کام شروع کرنے ہیں تو وقت کا ایک درست اور یکساں نظام ناگزیر ہے۔ اس منصوبے کو 'گرین وچ مون ٹائم' کا نام دیا گیا ہے، جو زمین کے معیاری وقت کی طرز پر چاند کے لیے ایک نیا ٹائم زون ہوگا۔ اکتوبر کے مہینے میں منعقد ہونے والی ایک اہم عالمی کانفرنس میں ممالک اس بات پر ووٹنگ کریں گے کہ چاند پر وقت کے گزرنے کو کیسے ماپا جائے۔ یہ فیصلہ مستقبل کے قمری مشنز کی کامیابی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ چاند پر وقت کا تعین کرنا زمین کے مقابلے میں بہت پیچیدہ ہے، کیونکہ وہاں کششِ ثقل کا فرق وقت کی رفتار پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند پر ایک دن زمین کے مقابلے میں قدرے مختلف رفتار سے گزرتا ہے، اس لیے وہاں کے لیے ایک خاص گھڑی یا ٹائم سسٹم کا ہونا ضروری ہے تاکہ مواصلاتی نظام اور روبوٹک آلات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ گزشتہ دہائیوں میں چاند پر ہونے والی تحقیق اب کمرشل مقاصد کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جہاں نجی کمپنیاں اور ممالک چاند کی مٹی میں موجود معدنیات اور پانی کی تلاش میں سرگرم ہیں۔ اس مسابقت کے ماحول میں وقت کا درست تعین نہ صرف سائنسی ضرورت ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی تعین کرے گا کہ چاند کے کن علاقوں پر کس ملک کا تکنیکی کنٹرول زیادہ مؤثر ہے۔ مستقبل میں قمری مشنز کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ زمین اور چاند کے درمیان وقت کا توازن کیسے برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہ عالمی کوششیں اس بات کی عکاس ہیں کہ انسانیت اب خلاء میں محض تحقیقات تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ وہاں ایک نئی معیشت اور بستی قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔