LIVE
Loading Breaking News...

بی بی سی میں تنخواہوں کا تنازع: اعلیٰ افسران کو لاکھوں جبکہ عام عملے کو معمولی اضافہ

News Image
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی میں اعلیٰ عہدیداروں کی بھاری تنخواہوں اور عام ملازمین کو صرف ڈیڑھ فیصد اضافے پر اکتفا کرنے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 130 سے زائد ایگزیکٹوز سالانہ ایک لاکھ اٹھہتر ہزار پاؤنڈ سے زیادہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی میں تنخواہوں کے حوالے سے ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے جب یہ انکشاف ہوا کہ ادارے کے 130 سے زائد اعلیٰ عہدیدار سالانہ ایک لاکھ اٹھہتر ہزار پاؤنڈ سے زائد تنخواہ لے رہے ہیں۔ دی میل آن سنڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق بی بی سی کے سرفہرست ایگزیکٹوز کو تنخواہوں میں بھاری اضافے سے نوازا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف عام اور نچلے درجے کے ملازمین کو صرف ڈیڑھ فیصد اضافے کی پیشکش کی گئی ہے۔ اس صورتحال نے ملازمین میں شدید بے چینی اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاں عام ملازمین مہنگائی کے اس دور میں اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے جدجهد کر رہے ہیں، وہیں اعلیٰ حکام کو لاکھوں پاؤنڈز کے پیکجز مل رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ادارے کے اندر بڑھتے ہوئے مالی عدم مساوات اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کو واضح کرتا ہے۔ عوامی فنڈز سے چلنے والے اس ادارے میں اس طرح کے اخراجات پر پہلے بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، لیکن تازہ ترین اعداد و شمار نے اس بحث کو مزید گرم کر دیا ہے۔ بی بی سی کے ترجمان کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے اور انتہائی ماہر اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو برقرار رکھنے کے لیے مسابقتی تنخواہیں دینا ضروری ہے۔ تاہم، ٹریڈ یونینز اور ملازمین کے نمائندوں نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالیاتی بحران کے اس دور میں تنخواہوں کا یہ فرق ناقابل قبول ہے۔ یونینز نے مطالبہ کیا ہے کہ عام کارکنان کی تنخواہوں میں بھی منصفانہ اور مناسب اضافہ کیا جائے تاکہ وہ بھی مہنگائی کا مقابلہ کر سکیں۔ اس پورے واقعے کے بعد برطانوی پارلیمنٹ اور میڈیا حلقوں میں بھی بی بی سی کی تنخواہوں کی پالیسی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ادارے نے اپنی اندرونی پالیسیوں میں توازن پیدا نہ کیا تو اسے نہ صرف اندرونی احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ اس کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید گرما گرم بحث کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ ملازمین اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔