LIVE
Loading Breaking News...

تنقید اور ناقدین: کثیر الجہتی نسبیت پسندی کا ایک تحقیقی جائزہ

News Image
یہ مضمون میتھیو آرنلڈ کے تنقید کے تصور اور تنقید نگاری میں پائی جانے والی کثیر الجہتی نسبیت کا احاطہ کرتا ہے۔ مصنف اس بات پر زور دیتا ہے کہ تنقید دنیا میں بہترین خیالات کو فروغ دینے کا ایک غیر جانبدارانہ عمل ہے۔
میتھیو آرنلڈ نے انیسویں صدی میں تنقید کو ایک غیر جانبدارانہ اور تخلیقی کوشش قرار دیا تھا جس کا مقصد دنیا میں موجود بہترین خیالات کو جاننا اور انہیں عام کرنا ہے۔ بابسن گبنائیجے اپنے ایک حالیہ تجزیے میں اسی نکتے کو اجاگر کرتے ہیں کہ تنقید محض اعتراض کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرتی اور علمی ارتقا کے لیے ایک ضروری عمل ہے۔ ناقدین جب مختلف زاویوں سے کسی فن پارے یا خیال کو دیکھتے ہیں تو وہ دراصل کثیر الجہتی نسبیت (Pluralistic Relativism) کی بنیاد رکھتے ہیں، جس کا مقصد سچائی کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانا ہوتا ہے۔ تنقید میں نسبیت پسندی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ سب کچھ درست ہے، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ تنقید کرنے والے کی سماجی، تاریخی اور جذباتی پس منظر اس کی رائے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب ہم سی لیوس یا دیگر کلاسیکی شعرا اور نقادوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تنقید ہمیشہ ایک ارتقائی عمل سے گزرتی ہے۔ ماضی میں تنقید کو صرف ادبی محاسن تک محدود رکھا جاتا تھا، لیکن آج کے دور میں یہ سماجی اور سیاسی شعور کی علامت بن چکی ہے۔ ایک اچھا نقاد وہ ہے جو تعصبات سے بالاتر ہو کر تخلیق کے جوہر تک پہنچ سکے۔ موجودہ دور میں تنقید کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ معلومات کی بھرمار کے دور میں درست اور غلط کی تمیز مشکل ہو چکی ہے۔ کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنانے سے ہم تنگ نظری کے شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ تنقید نگاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی آراء میں لچک رکھیں اور نئے خیالات کا خیرمقدم کریں۔ آرنلڈ کا یہ کہنا کہ 'تنقید ایک غیر جانبدارانہ کوشش ہے' آج بھی ہمارے تعلیمی اور ادبی حلقوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ تنقید کا مقصد کسی کی حوصلہ شکنی نہیں بلکہ بہتری کی گنجائش پیدا کرنا ہے۔ جب تک معاشرے میں تنقید کو کھلے دل سے قبول کیا جاتا رہے گا، تب تک نئی فکر اور نئے تصورات جنم لیتے رہیں گے۔ ناقدین کا کام محض غلطیاں نکالنا نہیں، بلکہ معاشرتی دانش کو بہتر بنانے کے لیے نئے راستے ہموار کرنا ہے۔ ہمیں اس کثیر الجہتی نسبیت کو ایک اثاثے کے طور پر دیکھنا چاہیے جو ہمارے فکری افق کو وسیع تر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔