Business
خام تیل کی قیمتیں: عالمی منڈی کا تازہ ترین رجحان اور معاشی اثرات
امریکی پی سی ای انڈیکس کے اجرا سے قبل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی سپلائی چین کے حوالے سے خدشات کو جنم دے رہی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ملا جلا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی پی سی ای (PCE) افراط زر کے اعداد و شمار کے اجرا سے قبل سرمایہ کاروں کی احتیاطی حکمت عملی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی توجہ فی الحال 80 ڈالر اور 75 ڈالر کی سپورٹ سطحوں پر مرکوز ہے، جو آنے والے دنوں میں قیمتوں کے تعین کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گی۔ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات نے مارکیٹ کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، خاص طور پر ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی ترسیل کے راستوں پر تحفظ کے خدشات کو دوبارہ تازہ کر دیا ہے۔ ہرمز کے بحران کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتیں 94 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر علاقائی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے براہ راست اثرات قیمتوں میں مزید اضافے کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ اگرچہ کچھ عرصہ قبل تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا تھا اور برینٹ آئل 94.59 ڈالر تک پہنچ گیا تھا، لیکن موجودہ حالات میں سرمایہ کاروں کو امریکی فیڈرل ریزرو کے ممکنہ فیصلوں اور اقتصادی پالیسیوں کا بھی انتظار ہے۔ آئی این جی (ING) جیسی عالمی مالیاتی تنظیموں نے بھی خبردار کیا ہے کہ پابندیوں کا خطرہ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی تیل کی قیمتوں کو طویل مدت تک اونچی سطح پر رکھ سکتی ہے۔ ان حالات میں عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، کیونکہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں تیل کی مارکیٹ کا انحصار بڑی حد تک امریکی اقتصادی اعداد و شمار اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر ہوگا، جس پر عالمی تجزیہ کاروں کی گہری نظر ہے۔