Business
کاروباری ٹیکس اصلاحات: پب اور ہوٹلوں کے ریٹس کا ازسرنو جائزہ
انگلینڈ اور ویلز میں کاروباری جائیدادوں پر لگائے جانے والے ریٹس کے حساب کتاب کے نظام کا باضابطہ جائزہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس حکومتی اقدام کا مقصد موجودہ ٹیکس نظام میں اصلاحات متعارف کروا کر کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
انگلینڈ اور ویلز میں ہوٹل اور پب انڈسٹری پر عائد کیے جانے والے کاروباری ریٹس (Business Rates) کے تعین کے طریقہ کار کے حوالے سے ایک جامع جائزے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا یہ عمل اس بات کا تعین کرنے کے لیے ہے کہ موجودہ ٹیکس نظام کس حد تک شفاف اور منصفانہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جائزہ طویل عرصے سے جاری اس مطالبے کا نتیجہ ہے جس میں کاروباری طبقے نے موجودہ ریٹنگ سسٹم کو پیچیدہ اور بوجھل قرار دیا تھا۔ اس جائزے کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کس طرح پراپرٹی کی قیمتوں اور دیگر عوامل کی بنیاد پر یہ ریٹس طے کیے جاتے ہیں اور ان میں کس قسم کی اصلاحات کی گنجائش موجود ہے۔
اس وقت انگلینڈ اور ویلز میں کاروباری اداروں کو اپنی جائیداد کی سرکاری ویلیو ایشن کے مطابق ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، جس پر طویل عرصے سے تنقید کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر ہوٹل اور پب مالکان کا مؤقف ہے کہ آن لائن کاروبار کے مقابلے میں اینٹ اور مارٹر والے کاروباری مراکز کو زیادہ بھاری ٹیکسوں کا سامنا ہے، جو ان کی مسابقت کی صلاحیت کو متاثر کر رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اس جائزے کے ذریعے یہ دیکھا جائے گا کہ کیا موجودہ نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس میں بنیادی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں تاکہ کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جا سکے اور چھوٹے کاروباری اداروں کو ریلیف دیا جا سکے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ یہ جائزہ نہ صرف موجودہ نظام کی خامیوں کو اجاگر کرے گا بلکہ مستقبل میں کاروباری ٹیکسوں کی کیلکولیشن کے لیے ایک زیادہ سادہ اور شفاف فارمولا ترتیب دینے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اگرچہ حکومتی سطح پر ابھی حتمی تجاویز کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن صنعت سے وابستہ افراد اسے خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ جائزے کے نتائج کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ کیا حکومت کاروباری ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی لائے گی یا ٹیکس وصولی کے طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کیا جائے گا۔ اس پوری صورتحال پر کاروباری حلقوں کی گہری نظریں جمی ہوئی ہیں کیونکہ اس کا براہِ راست اثر ملک بھر میں ہزاروں پب اور ہوٹل مالکان کی مالیاتی منصوبہ بندی پر پڑے گا۔