LIVE
Loading Breaking News...

کام کی جگہوں پر لہجے کا تعصب: ایک سماجی مسئلہ

News Image
مختلف لہجوں کے حوالے سے تعصب اب بھی دفاتر اور کام کی جگہوں پر ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ حالیہ سروے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ لوگ اپنے لہجے کی وجہ سے سماجی اور پیشہ ورانہ دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔
دنیا بھر میں زبان اور لہجے کا تعلق انسان کی شناخت سے گہرا ہوتا ہے، تاہم حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ 'ایکسنٹ بائس' یعنی لہجے کی بنیاد پر کیا جانے والا تعصب آج کے دور میں بھی کارپوریٹ سیکٹر اور دیگر دفاتر میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بہت سے لوگ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اس بات سے مسلسل خوفزدہ رہتے ہیں کہ ان کا بولنے کا انداز سامنے والے پر کیا تاثر چھوڑے گا۔ اکثر لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر وہ معیاری یا مخصوص لب و لہجہ اختیار نہیں کر سکتے، تو انہیں ملازمت کے حصول یا ترقی کے مواقع میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سروے کے مطابق، بہت سے ملازمین کا ماننا ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو صرف اس لیے نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ ان کا تعلق کسی مخصوص علاقے سے ہے یا ان کے لہجے میں مقامی رنگ غالب ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو اپنی مادری زبان کے اثرات کو گفتگو کے دوران نہیں چھپا پاتے، انہیں اکثر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ملازمین کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ ان کی کام کرنے کی صلاحیت اور اعتماد کو بھی مجروح کرتی ہے۔ لوگ خود کو بہتر محسوس کرنے کے لیے اپنے لہجے کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ان کی اپنی شخصیت کا فطری پہلو دب جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کام کی جگہوں پر تنوع کو فروغ دینے کے باوجود، لسانی تعصب کے جڑیں بہت گہری ہیں۔ یہ تعصب اکثر لاشعوری طور پر کیا جاتا ہے، جہاں کسی شخص کے لہجے کو اس کی قابلیت اور اہلیت کا پیمانہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ تنظیمی ثقافت کے لیے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ یہ باصلاحیت افراد کو اپنے جوہر دکھانے سے روکتا ہے۔ جدید دور میں، جہاں عالمی سطح پر رابطے بڑھ رہے ہیں، لہجے کے حوالے سے اس دقیانوسی سوچ کو ختم کرنا اشد ضروری ہے تاکہ ہر فرد اپنی قابلیت کی بنیاد پر مساوی مواقع حاصل کر سکے۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ زبان ابلاغ کا ذریعہ ہے نہ کہ کسی کی ذہانت جانچنے کا معیار۔ دفاتر کے سربراہان اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ ایسے ماحول کو فروغ دیں جہاں لہجے کی بجائے کام کی نوعیت اور کارکردگی کو اہمیت دی جائے۔ جب ہم ایک دوسرے کے لب و لہجے کا احترام کرنا سیکھ لیں گے، تبھی ایک صحت مند اور समावेशی (Inclusive) ورک پلیس کلچر کا قیام ممکن ہو سکے گا۔ لہجے پر مبنی تعصب کا خاتمہ محض ایک سماجی مطالبہ نہیں بلکہ کام کی جگہ پر انصاف اور برابری کے اصولوں کا تقاضا ہے۔