LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز: ایران کی جانب سے جہازوں پر نئی فیس عائد کرنے کی تیاری

News Image
ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے غیر ملکی تجارتی جہازوں کے لیے نئی سروس فیس کے قانون کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں ایرانی خدمات کے عوض مالی وسائل کا حصول اور سمندری حدود پر اپنے کنٹرول کو مستحکم کرنا ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ نے ایک اہم قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے غیر ملکی بحری جہازوں پر سروس فیس عائد کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت ان تمام ممالک کے تجارتی جہازوں کو ایران کی جانب سے فراہم کردہ خدمات کے بدلے ادائیگی کرنی ہوگی جو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کے مجاز ہیں۔ یہ قدم خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست اور سمندری حدود پر تہران کے اختیار کو مزید مضبوط کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ قانون مکمل طور پر نافذ العمل ہوتا ہے تو اس کے عالمی تجارت اور جہاز رانی کی صنعت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں سیکورٹی، تلاش و بچاؤ، اور دیگر سمندری سہولیات فراہم کرتا ہے، جس کے بدلے میں ان تمام ممالک کو فیس ادا کرنی چاہیے جو اس راستے کا استعمال کرتے ہیں۔ تہران کے مطابق یہ اقدام مکمل طور پر ملکی خودمختاری اور بین الاقوامی سمندری قوانین کے فریم ورک کے اندر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی مبصرین نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس فیس کے نفاذ سے جہاز رانی کے اخراجات میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ مغربی ممالک اور خلیجی ریاستیں اس قانون سازی کو بہت باریک بینی سے دیکھ رہی ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کسی بھی قسم کے تناؤ کی صورت میں عالمی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کی جانب سے اس مسودے کو آگے بڑھانا اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران اپنے علاقائی حقوق کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ فی الحال یہ دیکھنا باقی ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کی کمپنیاں اور عالمی طاقتیں اس نئی پیش رفت پر کس قسم کا سفارتی ردعمل دیتی ہیں، کیونکہ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر ایک بڑی بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔