Technology
ٹی ایس ایم سی کی نئی 1.6 نینو میٹر ٹیکنالوجی، چپ انڈسٹری میں انقلاب
تائیوان کی معروف کمپنی ٹی ایس ایم سی نے اپنی اگلی نسل کے 1.6 نینو میٹر چپ مینوفیکچرنگ پروسیس کی ڈیولپمنٹ اور تصدیق کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت چپ سازی کی صنعت میں حریف کمپنی سیمسنگ کے مقابلے میں ٹی ایس ایم سی کی تکنیکی برتری کو مزید مستحکم کرے گی۔
دنیا کی سب سے بڑی کنٹریکٹ چپ بنانے والی کمپنی، تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (TSMC) نے اپنی اگلی نسل کے 1.6 نینو میٹر کلاس چپ مینوفیکچرنگ پروسیس کی ڈیولپمنٹ اور تصدیق کا کام کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت کمپنی کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ اپنی ٹیکنالوجی کی برتری کو مزید وسیع کر رہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس جدید ترین پروسیس کو 'A16' کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے لیے درکار انتہائی پیچیدہ چپس کی تیاری کو ممکن بنانا ہے۔
اس نئی ٹیکنالوجی کے اعلان کے ساتھ ہی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں موجود مسابقت کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے، خاص طور پر حریف کمپنی سیمسنگ الیکٹرانکس کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ 1.6 نینو میٹر پروسیس کے ذریعے ٹی ایس ایم سی اپنی کارکردگی اور توانائی کی بچت میں وہ معیار قائم کر رہی ہے جو فی الحال مارکیٹ میں کسی اور کمپنی کے پاس دستیاب نہیں ہے۔ یہ تکنیکی خلاء آنے والے سالوں میں ایپل، اینویڈیا اور دیگر بڑے اداروں کو ٹی ایس ایم سی کی جانب راغب کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
ٹی ایس ایم سی کی حکمت عملی کے مطابق، اس پروسیس کی بڑے پیمانے پر پیداوار 2026 کے وسط تک شروع ہونے کی توقع ہے۔ اس سے پہلے کمپنی 2 نینو میٹر ٹیکنالوجی کی طرف قدم بڑھائے گی، جس کی بڑے پیمانے پر پیداوار کا آغاز 2025 میں متوقع ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ایس ایم سی جس تیزی سے نینو میٹر لیول کو کم کر رہی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مور کے قانون (Moore's Law) کو زندہ رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ ترقی نہ صرف اسمارٹ فونز بلکہ ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
اس کامیابی کے بعد سیمسنگ الیکٹرانکس کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔ سیمسنگ بھی اپنی جدید ترین 'گیٹ آل اراؤنڈ' (GAA) ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے، لیکن ٹی ایس ایم سی کی جانب سے 1.6 نینو میٹر کے پروسیس کو حتمی شکل دینے سے عالمی مارکیٹ میں ان کا پلڑا بھاری ہو گیا ہے۔ ٹی ایس ایم سی کے سی ای او نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کمپنی کا مقصد اپنے کلائنٹس کو سب سے جدید اور قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہے، جس کے لیے وہ مسلسل تحقیق اور ترقی پر بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔