LIVE
Loading Breaking News...

اسپیس ایکس سٹار شپ: ٹاور کیچ ٹیکنالوجی اور مستقبل کے لانچ مشنز

News Image
ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ اسپیس ایکس کی جانب سے سٹار شپ کو لانچ ٹاور کے ذریعے کیچ کرنے کا اہم تجربہ چند ماہ میں کیا جائے گا۔ اس اقدام کو انسانی شعور کو ستاروں تک پہنچانے کے سفر میں ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی کی جانب سے سٹار شپ خلائی جہاز کو لانچ ٹاور کے ذریعے فضا میں ہی کیچ کرنے کا اہم ترین تجربہ آئندہ چند ماہ کے اندر کیا جائے گا۔ یہ تکنیکی پیش رفت اسپیس ایکس کے دوبارہ استعمال کے قابل خلائی نظام کو مکمل کرنے کے سفر میں ایک اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد سٹار شپ کے بوسٹر اور جہاز کو لینڈنگ کے دوران کامیابی سے پکڑنا ہے تاکہ ان کے دوبارہ استعمال کو تیز اور محفوظ بنایا جا سکے۔ ایلون مسک کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی کامیابی مستقبل میں طویل فاصلے کے خلائی سفر اور مریخ پر انسانی کالونی قائم کرنے کے مشن کو عملی جامہ پہنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اسپیس ایکس کی منصوبہ بندی کے مطابق سٹار شپ کی دوبارہ پرواز اس سال کے آخر تک یا اگلے سال کے اوائل میں متوقع ہے۔ اس پرواز کو خلائی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی اگر کامیابی سے کام کرتی ہے تو اس سے لانچ کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور خلا تک رسائی کے مواقع بڑھیں گے۔ موجودہ لانچ اپروولز اور سٹار شپ کی کارکردگی کے حوالے سے کمپنی نے اپنی رفتار دس گنا بڑھا دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسپیس ایکس بہت جلد کمرشل بنیادوں پر خلائی سفر کی جانب گامزن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹار شپ کا ٹاور کیچ سسٹم ایک انتہائی پیچیدہ انجینئرنگ شاہکار ہے۔ اس کے لیے لانچ ٹاور پر نصب مکینیکل بازوؤں کو انتہائی درستگی کے ساتھ سٹار شپ کے سائز اور اس کی رفتار کے مطابق کام کرنا ہوگا۔ ایلون مسک نے اسے 'انسانی شعور کو ستاروں تک پہنچانے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ' قرار دیا ہے۔ اس کامیابی کے بعد اسپیس ایکس نہ صرف زمین کے مدار بلکہ چاند اور مریخ تک کارگو اور انسانی مشنز بھیجنے کی صلاحیت میں اضافہ کر سکے گا۔ پوری دنیا کی نظریں اب اسپیس ایکس کے اگلے چند مہینوں کے ٹیسٹ رن پر جمی ہوئی ہیں جو خلائی ٹیکنالوجی کی تاریخ بدل سکتے ہیں۔