LIVE
Loading Breaking News...

سولر پینلز میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ: حکومت کی نیٹ زیرو پالیسی پر تنقید

News Image
برطانیہ میں سولر پینلز میں اچانک آگ لگنے سے ایک رہائشی کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا جس سے نیٹ زیرو مہم کے حفاظتی معیارات پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ مارک ایونز نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مالی نقصان بہت زیادہ ہے لیکن وہ اپنی جان بچ جانے پر شکر گزار ہیں۔
مارک ایونز اس وقت شدید صدمے سے دوچار ہوئے جب وہ اپنے بیٹوں کا رگبی میچ دیکھ کر گھر واپس لوٹے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے گھر کی چھت پر نصب سولر پینلز نے آگ پکڑ لی ہے۔ مارک کے مطابق، وہ ابھی گھر کی دہلیز پر ہی تھے کہ ایک پڑوسی نے دروازے پر دستک دی اور اطلاع دی کہ ان کے سولر پینلز سے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ چند ہی لمحوں میں یہ آگ پورے گھر میں پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی برسوں کی کمائی اور یادگاریں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں۔ مارک کا کہنا ہے کہ وہ یہ سوچ کر ہی لرز جاتے ہیں کہ اگر وہ گھر میں موجود ہوتے تو کیا ہوتا، تاہم اس سب کے باوجود وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگی محفوظ رہنے پر خدا کا شکر ادا کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ برطانیہ میں نیٹ زیرو پالیسی کے تحت سولر پینلز کے وسیع پیمانے پر استعمال کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ مارک ایونز اکیلے نہیں ہیں، بلکہ ملک بھر میں ایسے متعدد واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جہاں مبینہ طور پر ناقص تنصیب یا برقی خرابیوں کے باعث سولر سسٹم آگ کا باعث بنے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جلد بازی میں گرین انرجی اور نیٹ زیرو اہداف کے حصول کے لیے حفاظتی معیارات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں رہائشی مکانات ایک ٹینڈر باکس یعنی بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر پینلز میں آگ لگنے کی وجوہات میں اکثر تاروں کی ناقص کنکشن، شارٹ سرکٹ اور معیار کے مطابق نہ ہونے والے انورٹرز شامل ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے برطانیہ میں گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز کی تعداد بڑھ رہی ہے، آگ بجھانے والے محکموں نے بھی خبردار کیا ہے کہ ان سسٹمز کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور مینٹیننس انتہائی ضروری ہے۔ حکومت پر اب یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ نیٹ زیرو پالیسی پر عمل درآمد کرتے وقت نہ صرف ماحولیاتی فوائد کو دیکھے بلکہ شہریوں کے گھروں کی حفاظت اور آگ سے بچاؤ کے سخت ضابطہ اخلاق کو بھی یقینی بنائے۔ مارک ایونز جیسے متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو اپنانے سے قبل اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں شہریوں کو آگاہ کیا جائے اور ان کی تنصیب کے لیے تصدیق شدہ کمپنیوں کو ہی لائسنس دیا جائے۔