Business
وال اسٹریٹ مارکیٹ میں بڑی گراوٹ، ڈاؤ جونز 1100 پوائنٹس گر گیا
امریک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور فیڈرل ریزرو کے ممکنہ اقدامات کے باعث وال اسٹریٹ میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ ٹیکنالوجی کے حصص میں فروخت کے دباؤ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سرمایہ کاروں میں بے یقینی پائی گئی۔
بدھ کے روز امریکی حصص بازار میں شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا جہاں ڈاؤ جونز انڈیکس میں گیارہ سو پوائنٹس سے زائد کی تاریخی گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ گراوٹ ٹیکنالوجی کے بڑے حصص میں فروخت کے شدید دباؤ اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔ سرمایہ کاروں میں اس بات پر شدید بے یقینی پائی جا رہی ہے کہ امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے آئندہ کیا لائحہ عمل اختیار کرے گا۔ دوسری جانب ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں بھی ڈیڑھ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ کاروباری روز کے دوران مارکیٹ میں اتار چڑھاو کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ اور شرح سود کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ ٹیکنالوجی سیکٹر سے تعلق رکھنے والی بڑی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس نے مجموعی طور پر مارکیٹ کے اعصاب پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ سرمایہ کار اب اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے کیا بیانات یا اقدامات سامنے آتے ہیں۔ اس موجودہ اقتصادی صورتحال کی وجہ سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی اضطراب پایا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید کاروباری اتار چڑھاو کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔