LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی نیورل نیٹ ورک اور نینو فلوئیڈ ٹیکنالوجی پر تحقیق

News Image
عراق کے محققین نے مصنوعی ذہانت کے نیورل نیٹ ورکس کا استعمال کرتے ہوئے فیروفلوئیڈ (Fe₃O₄/water) کی حرارتی خصوصیات کا تجزیہ کرنے کا نیا طریقہ وضع کیا ہے۔ یہ تحقیق صنعتی عمل میں نینو فلوئیڈز کے موثر استعمال کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
بغداد کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف وارث الانبیاء کے ماہرین کی ایک مشترکہ تحقیقی ٹیم نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ محققین نے 'مصنوعی نیورل نیٹ ورکس' (ANN) کا استعمال کرتے ہوئے پانی اور میگنیٹائٹ (Fe₃O₄) پر مشتمل فیروفلوئیڈز کی تھرموفزیکل خصوصیات کی درست پیش گوئی کرنے کا ماڈل تیار کیا ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد نینو فلوئیڈز کے رویے کو بہتر طور پر سمجھنا ہے تاکہ انہیں صنعتی اور سائنسی ایپلی کیشنز میں زیادہ موثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔ روایتی تجرباتی طریقوں کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر ماڈلنگ کا یہ امتزاج سائنسی تحقیق میں ایک نئی جہت متعارف کراتا ہے۔ اس تحقیقی مطالعے میں ماہرین نے تجرباتی پیمائش سے حاصل کردہ ڈیٹا کو نیورل نیٹ ورکس الگورتھم کے ذریعے پروسیس کیا، جس کے نتائج سے یہ ثابت ہوا کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز انتہائی درستگی کے ساتھ فیروفلوئیڈ کی حرارتی صلاحیتوں، وسکوسیٹی اور دیگر فزیکل خصوصیات کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ اس تحقیق میں عریج ڈی عباس اور لیتھ ایس صابری نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نینو فلوئیڈز کی تھرموفزیکل خصوصیات کا درست اندازہ لگانا انجینئرنگ کے مختلف شعبوں بشمول ہیٹ ایکسچینجرز اور کولنگ سسٹمز کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ محققین کے مطابق، فیروفلوئیڈز کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے پہلے صرف لیبارٹری کے طویل تجربات پر انحصار کیا جاتا تھا، جس میں وقت اور وسائل کا کافی ضیاع ہوتا تھا۔ اب مصنوعی نیورل نیٹ ورکس کے ذریعے تیار کردہ پیش گوئی ماڈل کے بعد، محققین بہت کم وقت میں مختلف درجہ حرارت اور ارتکاز پر فلوئیڈ کے رویے کا جائزہ لے سکیں گے۔ یہ پیش رفت نہ صرف توانائی کی بچت میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ مستقبل میں ایڈوانس کولنگ ٹیکنالوجیز اور نینو ٹیکنالوجی کی صنعت میں تحقیق کے نئے دروازے بھی کھولے گی۔ یہ ماڈل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال سائنسی پیچیدگیوں کو سلجھانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔