LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے خطرات: یووال نوح ہراری کا اہم بیان

News Image
مشہور مصنف یووال نوح ہراری نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا غیر کنٹرول شدہ پھیلاؤ دنیا بھر میں معاشی عدم مساوات اور سیاسی بحران پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اے آئی کو انسانی حقوق دینے کے بجائے اس کے ضوابط پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔
مشہور کتاب 'سیپینز' کے مصنف اور ممتاز مفکر یووال نوح ہراری نے مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات کے حوالے سے عالمی برادری کو شدید خبردار کیا ہے۔ ہراری کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی یہ انقلابی پیش رفت صرف سہولت کا باعث نہیں بنے گی بلکہ یہ دنیا کی معاشی اور سیاسی بنیادوں کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اگر مصنوعی ذہانت کو صحیح طریقے سے کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور معاشرتی تقسیم کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ مشینیں تیزی سے انسانی ملازمتوں کی جگہ لے رہی ہیں۔ ہراری نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو 'انسانی حقوق' یا 'شخصیت' دینے کا نظریہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھر کے پالیسی ساز ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ ان کے نزدیک اے آئی کو ایک آزاد ایجنٹ کے طور پر تسلیم کرنا انسانیت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ اس سے انسانوں کی اپنی ہی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی پر گرفت کمزور ہو سکتی ہے۔ سیاسی اعتبار سے بھی ہراری کا تجزیہ تشویشناک ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال جمہوریت کو کمزور کر سکتا ہے اور غلط معلومات (misinformation) کے ذریعے رائے عامہ کو تبدیل کرنا اور بھی آسان ہو جائے گا۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ قومی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک عالمی ضابطہ اخلاق مرتب کریں جو اس ٹیکنالوجی کو انسانیت کے مفاد میں رکھ سکے۔ ان کے نزدیک، اے آئی کی دوڑ میں شامل ممالک کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ایک غیر متوازن تکنیکی ارتقا پوری دنیا کو کسی بڑے سیاسی بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ آخر میں، ہراری نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ آنے والے برسوں میں دنیا کو ٹیکنالوجی اور انسانی اقدار کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ یہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی چیلنج ہے جس کا سامنا ہر معاشرے کو کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ابھی اے آئی کے بارے میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو مستقبل کی نسلوں کے لیے اس ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔ ان کا یہ انتباہ پوری دنیا کے ٹیک ماہرین اور حکومتوں کے لیے ایک بیداری کی کال ہے تاکہ ٹیکنالوجی کو تباہی کے بجائے ترقی کا ذریعہ بنایا جا سکے۔