World
پرنس ہیری اور میگھن مارکل کی برطانیہ واپسی اور مستقبل کے منصوبے
برطانوی شاہی خاندان سے الگ ہونے والے پرنس ہیری اور میگھن مارکل کی برطانیہ واپسی کی خبروں نے عالمی میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق جوڑے نے تاحال یہ طے نہیں کیا ہے کہ وہ برطانیہ میں کتنی مدت تک قیام کریں گے۔
برطانوی شاہی خاندان سے علیحدگی اختیار کرنے والے ڈیوک آف سسیکس پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کی برطانیہ واپسی کی خبروں نے گزشتہ کچھ دنوں سے میڈیا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یہ جوڑا اپنے بچوں آرچی اور للی بٹ کے ہمراہ برطانیہ منتقل ہونے پر غور کر رہا ہے، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیری اور میگھن نے ابھی تک یہ طے نہیں کیا ہے کہ اگر وہ برطانیہ واپس آتے ہیں تو ان کا قیام کتنی طویل مدت پر محیط ہوگا۔
پرنس ہیری اور میگھن مارکل کی ممکنہ واپسی کی خبروں کے ساتھ ہی سیکیورٹی کے امور بھی ایک بار پھر سرخیوں میں آ گئے ہیں۔ شاہی خاندان سے دوری اور سیکیورٹی پروٹوکولز کے حوالے سے ماضی میں پیش آنے والے تنازعات کے بعد، ان کی واپسی کو ایک حساس معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ برطانوی میڈیا میں اس حوالے سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں کچھ حلقے اسے شاہی خاندان کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دے رہے ہیں، وہیں سیکیورٹی اور دیگر انتظامی معاملات پر خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
اس صورتحال پر مختلف تبصرہ نگاروں اور صحافیوں کی جانب سے بھی سخت آراء سامنے آئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں کچھ معروف شخصیات نے جوڑے کے اس ممکنہ اقدام پر تنقید بھی کی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام اور میڈیا کا ایک بڑا طبقہ ان کے فیصلوں کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہے۔ دوسری جانب، شاہی محل کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
پرنس ہیری اور میگھن مارکل کا مستقبل کا لائحہ عمل اب دنیا بھر کے میڈیا اور شاہی امور کے ماہرین کی توجہ کا مرکز ہے۔ کیا یہ واپسی شاہی خاندان کے بکھرے ہوئے رشتوں کو جوڑنے کا باعث بنے گی یا پھر یہ تنازعات میں مزید اضافے کا سبب ہوگی، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال، سب کی نظریں اس جوڑے کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ واقعی برطانیہ میں مستقل قیام کا ارادہ رکھتے ہیں یا یہ محض ایک وقتی دورہ ہوگا۔