Entertainment
مارک روفالو کا سام دشمنی کے الزامات پر ردعمل، پیراماؤنٹ تنازعہ کی تفصیل
مشہور ہالی وڈ اداکار مارک روفالو نے پیراماؤنٹ اسٹوڈیو کے حکام کے اسرائیلی حکومت سے تعلقات پر تنقید کے بعد عائد ہونے والے سام دشمنی کے الزامات کو شرمناک قرار دیا ہے۔ اداکار کا کہنا ہے کہ ان کے موقف کو غلط رنگ دے کر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ہالی وڈ کے معروف اداکار اور سماجی کارکن مارک روفالو نے حال ہی میں پیراماؤنٹ اسکائی ڈانس کے ایگزیکٹوز کے اسرائیلی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات پر اٹھائے گئے سوالات کے بعد خود پر عائد ہونے والے سام دشمنی کے الزامات کی پرزور تردید کی ہے۔ اداکار نے ایک بیان میں ان الزامات کو نہ صرف شرمناک بلکہ بنیادی طور پر بددیانتی پر مبنی قرار دیا ہے۔ مارک روفالو کا کہنا ہے کہ ان کی تنقید کا ہدف اسرائیلی حکومت کی پالیسیاں تھیں، نہ کہ کوئی مذہب یا قوم، اور ان کے موقف کو غلط طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے۔ پیراماؤنٹ اسٹوڈیو اور انتظامیہ کے درمیان جاری تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب متعدد فنکاروں نے اسٹوڈیو کے سیاسی وابستگیوں پر کھل کر بات کی۔ مارک روفالو، جو ماضی میں بھی سماجی اور سیاسی مسائل پر اپنی بے باک رائے دینے کے لیے جانے جاتے ہیں، نے پیراماؤنٹ انتظامیہ کے اسرائیلی حکومت کے ساتھ کاروباری اور دیگر روابط پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک بڑی میڈیا کمپنی کے لیے اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاملات میں شفافیت برقرار رکھے۔ اس بیان بازی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جس میں اداکار کے حامی اور مخالفین آمنے سامنے ہیں۔ ناقدین کی جانب سے مارک روفالو پر سام دشمنی کا الزام لگایا گیا، جس پر اداکار نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تنقید کو نفرت کے زمرے میں ڈالنا ایک پرانا ہتھکنڈہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی بھی قسم کے نسلی یا مذہبی تعصب کے خلاف ہیں اور ان کی لڑائی صرف غیر منصفانہ سیاسی تعلقات کے خلاف ہے۔ ہالی وڈ انڈسٹری میں اس قسم کے تنازعات کوئی نئی بات نہیں ہیں، تاہم مارک روفالو کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فلمی دنیا کے بڑے نام اب عالمی سیاسی صورتحال پر اپنی خاموشی توڑنے کے لیے تیار ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاملے کے بعد اسٹوڈیو کی ساکھ اور مستقبل کے منصوبوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ فنکاروں کا ایک گروہ مسلسل انتظامیہ سے شفافیت کا مطالبہ کر رہا ہے۔