LIVE
Loading Breaking News...

اتر پردیش میں جاپانی وفد کی آمد: سیاحت کے فروغ کے امکانات

News Image
جاپان کے یاماناشی پریفیکچر کے وفد نے اتر پردیش کے دورے کے دوران ریاست کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کا مشاہدہ کیا۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے وفد کے ساتھ ملاقات میں دونوں خطوں کے مابین سیاحتی تعلقات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔
بھارت اور جاپان کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے سلسلے میں جاپان کے یاماناشی پریفیکچر سے آئے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اتر پردیش کا اہم دورہ کیا ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد ریاست کی تاریخی و ثقافتی ورثے کو قریب سے دیکھنا اور سیاحت کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔ وفد نے اپنے دورے کے دوران نئی دہلی، آگرہ، لکھنؤ، گریٹر نوئیڈا اور وارانسی جیسے اہم شہروں کا دورہ کیا، جہاں انہیں اتر پردیش کی شاندار تاریخ اور جدید ترقی سے روشناس کرایا گیا۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جاپانی وفد کے سربراہ کوتارو ناگاساکی اور ان کے وفد کے دیگر ارکان کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ اتر پردیش اپنی قدیم تہذیب، بدھ مت کے مقدس مقامات اور ثقافتی ورثے کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاماناشی اور اتر پردیش کے مابین سیاحتی روابط بڑھنے سے دونوں خطوں کے لوگوں کے مابین ثقافتی تبادلے میں اضافہ ہوگا، جو کہ باہمی تعلقات کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔ وفد نے اپنے دورے کے دوران تاج محل سمیت کئی تاریخی عمارتوں کا دورہ کیا اور ریاست کی سیاحتی سہولیات کی تعریف کی۔ جاپانی وفد کا کہنا تھا کہ اتر پردیش میں سیاحوں کے لیے موجود انفراسٹرکچر اور حکومتی سطح پر کیے گئے اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔ خاص طور پر وارانسی کے گھاٹوں اور لکھنؤ کے تاریخی ورثے نے وفد پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس دورے سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں جاپان سے اتر پردیش آنے والے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا اور سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔ اس دورے کا اختتام ایک پرامید نوٹ پر ہوا ہے جہاں دونوں جانب سے سیاحتی تجربات کے تبادلے اور ٹیکنالوجی کے اشتراک پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اتر پردیش حکومت اس دورے کو اپنی ریاستی سیاحت کی پالیسی کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس کا مقصد ریاست کو بین الاقوامی سطح پر ایک مثالی سیاحتی مقام کے طور پر پیش کرنا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف سفارتی تعلقات بلکہ عوامی سطح پر بھی بھارت اور جاپان کے درمیان دوستی کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔