World
چین کا طبی انقلاب: روایتی طریقہ علاج سے جدید ٹیکنالوجی تک
آدھی صدی قبل چین کے دیہی علاقوں میں بنیادی طبی امداد پہنچانے والے ننگے پاؤں ڈاکٹروں نے آج کے جدید طبی نظام کی بنیاد رکھی۔ چین نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں اپنے دیہی اور شہری صحت کے نظام کو غیر معمولی سطح پر مستحکم کر لیا ہے۔
آدھی صدی قبل چین کے دور دراز اور پسماندہ دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کا تصور بھی محال تھا، جس کے نتیجے میں 'ننگے پاؤں ڈاکٹروں' (Barefoot Doctors) کا ادارہ وجود میں آیا۔ یہ وہ مقامی طبی کارکن تھے جو معمولی ادویات، چند سرنجوں اور سوئیوں کے ساتھ دیہاتوں میں پھرتے تھے اور لوگوں کو بنیادی طبی امداد فراہم کرتے تھے۔ ان ننگے پاؤں ڈاکٹروں نے اس وقت کے مشکل حالات میں دیہی آبادی کی صحت کے تحفظ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا اور وبائی امراض پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ عام بیماریوں کے علاج میں بھی کلیدی خدمات انجام دیں۔ یہ ایک ایسا دور تھا جہاں طبی وسائل کی شدید کمی تھی، لیکن ان کارکنوں کا جذبہ خدمات سرشار تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چین نے اپنے طبی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا شروع کیا۔ آج ان کے بعد، چین کے پاس ایک وسیع اور متنوع طبی نظام موجود ہے جس نے ننگے پاؤں ڈاکٹروں کے اس عاجزانہ آغاز سے ترقی کا ایک لمبا سفر طے کیا ہے۔ جدید چین میں اب دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان صحت کی سہولیات کا فرق کافی حد تک کم ہو چکا ہے، اور جدید ترین ٹیکنالوجی، روبوٹک سرجری اور ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر سروسز اب چینی عوام کی پہنچ میں ہیں۔ چین کی حکومت نے صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے، جس کی بدولت آج چین دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں اوسط عمر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جدید طبی ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف تشخیص کا عمل آسان ہو گیا ہے بلکہ پیچیدہ سے پیچیدہ بیماریوں کا علاج بھی ممکن بنایا گیا ہے۔ یہ سفر صرف طبی آلات کی تبدیلی کا نہیں، بلکہ ایک ایسی پالیسی کا عکاس ہے جس نے عام آدمی کی زندگی کو صحت مند بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ آج چین کا صحت کا نظام بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے اور یہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک محدود وسائل والا نظام اپنی حکمت عملی اور عزم کے ذریعے ایک طاقتور اور جدید طبی قوت بن سکتا ہے۔