LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ: ورک فرام ہوم کرنے والے سرکاری ملازمین کے ہیٹنگ بلوں پر تنازع

News Image
برطانیہ کے ریونیو اینڈ کسٹمز محکمے پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے گھر سے کام کرنے والے سرکاری ملازمین کے ہیٹنگ بلز کی مد میں ٹیکس دہندگان کے چھ لاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم خرچ کی ہے۔ اس انکشاف کے بعد عوامی حلقوں اور سیاسی مبصرین کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
برطانیہ میں سرکاری خزانے کے غلط استعمال اور غیر ضروری اخراجات پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جس میں ہز میجسٹی ریونیو اینڈ کسٹمز (HMRC) کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ سرکاری محکمے نے گھر سے کام (Work From Home) کرنے والے اپنے ملازمین کے ہیٹنگ بلز اور دیگر گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیکس دہندگان کے چھ لاکھ پاؤنڈ سے زائد کی رقم خرچ کی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سرکاری اخراجات کی تفصیلات منظر عام پر آئیں، جس کے بعد ٹیکس دہندگان کی تنظیموں اور سیاسی حلقوں نے اسے عوام کے پیسے کا 'گھنونا ضیاع' قرار دیا ہے۔ اس معاملے پر شدید عوامی ردعمل پایا جاتا ہے، کیونکہ برطانیہ اس وقت مہنگائی اور توانائی کے بحران کا شکار ہے جہاں عام شہری اپنے گھروں کو گرم رکھنے کے لیے بھاری بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں سرکاری ملازمین کو گھر سے کام کرنے کے دوران ہیٹنگ الاؤنس دینے کے فیصلے نے لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رقم ان لوگوں کے ٹیکس سے لی گئی ہے جو خود مشکل معاشی حالات سے گزر رہے ہیں، اور سرکاری سطح پر اس طرح کی مراعات کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومتی اخراجات میں شفافیت لائی جائے اور اس قسم کے فضول خرچی کے فیصلوں کو فوری طور پر بند کیا جائے۔ دوسری جانب سرکاری ترجمان نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ یہ ادائیگی ملازمین کو درپیش اضافی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ایک پالیسی کے تحت کی گئی تھی۔ تاہم، حکومتی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں نے اس جواز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں سرکاری اداروں کو کفایت شعاری سے کام لینا چاہیے نہ کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو ذاتی نوعیت کے گھریلو بلوں کی ادائیگی میں اڑانا چاہیے۔ یہ تنازع اب پارلیمان میں بھی اٹھائے جانے کا امکان ہے، جہاں حکومت کو جوابدہی کا سامنا کرنا پڑے گا کہ آیا عوام کی جیب سے یہ بھاری رقم خرچ کرنا واقعتاً ناگزیر تھا یا یہ انتظامی غفلت کا ایک نمونہ ہے۔