Technology
مصنوعی ذہانت میں امریکہ بمقابلہ چین: ٹیکنالوجی ماڈلز کا موازنہ
مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں امریکہ اور چین کے مابین حکمت عملی کا واضح فرق سامنے آیا ہے جہاں امریکہ سبسکرپشن ماڈل پر زور دے رہا ہے۔ دوسری جانب چین اپنی ٹیکنالوجی کی مکمل ملکیت اور خود انحصاری کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔
جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا میدان ایک نئی عالمی جنگ کا مرکز بن چکا ہے، جہاں امریکہ اور چین دو مختلف حکمت عملیوں کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔ موجودہ عالمی رجحانات کے مطابق، امریکی کمپنیاں بڑی حد تک 'سبسکرپشن ماڈل' پر انحصار کر رہی ہیں۔ اس ماڈل کے تحت صارفین اور دیگر ممالک کو ٹیکنالوجی کرائے پر فراہم کی جاتی ہے، جس سے نہ صرف منافع کا ایک مستقل سلسلہ قائم رہتا ہے بلکہ ٹیکنالوجی کا کنٹرول بھی امریکی کمپنیوں کے پاس برقرار رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار امریکہ کو عالمی سطح پر اپنی برتری قائم رکھنے میں مدد دے رہا ہے، کیونکہ دوسرے ممالک اس کے کلاؤڈ اور کمپیوٹ وسائل کے محتاج رہتے ہیں۔
اس کے برعکس، چین نے اپنی پالیسیوں کا رخ مکمل ملکیتی ٹیکنالوجی اور خود انحصاری کی طرف موڑ لیا ہے۔ چین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کسی دوسرے ملک پر انحصار کرنا اس کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے بیجنگ اپنی مقامی کمپنیوں کو نہ صرف مالی معاونت فراہم کر رہا ہے بلکہ انہیں اس قابل بنا رہا ہے کہ وہ خود اپنے AI ماڈلز تیار کریں اور ان کے مالکانہ حقوق اپنے پاس رکھیں۔ یہ حکمت عملی چین کو طویل مدتی فوائد دے سکتی ہے، کیونکہ اسے اپنی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے کسی تیسرے فریق کی اجازت یا سبسکرپشن فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
امریکی پالیسی سازوں کے مطابق، قومی مفاد میں برآمدات کو فروغ دینا اور نجی سرمایہ کاری کو بڑھانا ضروری ہے۔ امریکہ کا یہ استدلال ہے کہ کمپیوٹ وسائل کی فراہمی، اوپن سورس ماڈلز کی حوصلہ افزائی اور اسٹارٹ اپس تک رسائی کو آسان بنا کر زیادہ طویل مدتی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ سبسکرپشن ماڈل کے ذریعے ٹیکنالوجی کا انحصار بڑھانا مستقبل میں سیاسی یا معاشی دباؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں چھوٹے ممالک اور ترقی پذیر ادارے اس کشمکش کے درمیان خود کو غیر یقینی صورتحال میں پا رہے ہیں۔ جہاں امریکہ کا ماڈل جدید ترین ٹیکنالوجی تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے، وہیں چین کا ماڈل ٹیکنالوجی پر مکمل خود مختاری کا وعدہ کرتا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دنیا کے کون سے خطے کس ماڈل کو اپناتے ہیں اور کیا یہ مقابلہ دنیا کو ٹیکنالوجی کے لحاظ سے دو بڑے بلاکس میں تقسیم کر دے گا یا کوئی درمیانی راستہ نکلے گا۔